خطبات محمود (جلد 12) — Page 272
خطبات محمود ۲۷۲ سال ۱۹۳۰ء اپنے فائدہ کے لئے ہیں اور ان پر عمل کرنے سے خود انسان کو ہی آرام ملتا اور اُس کی ترقی کے رستے کھلتے ہیں۔جن مذاہب نے شریعت کو چھٹی قرار دیا ہے ان کے ماننے والوں کے لئے ضروری ہے کہ خواہ کچھ ہو اپنے مذہبی احکام کو ضرور پورا کریں۔لیکن جس مذہب کے احکام کی غرض محض انسانی فائدہ ہو اس میں نفع اور نقصان کا موازنہ ہوتا ہے اور جو صورت زیادہ مفید ہو اسے اختیار کر لیا جاتا ہے۔اسلام نے بعض شرائط مقرر کر دی ہیں اگر وہ کسی میں پائی جائیں تو وہ ایک حکم پر عمل کرے اور اگر نہ پائی جائیں تو نہ کرے۔یہ شرائط صرف جسمانی عبادت کے لئے ہی نہیں بلکہ مالی عبادت کے لئے جیسے زکوۃ ہے، وطنی قربانی اور اتصال و اتحاد کی کوشش کے لئے جیسے حج ہے سب کے لئے ہیں اور جتنے مسائل اسلام سے تعلق رکھتے ہیں اور جتنے احکام واجب وفرض ہیں ان سب کے لئے یہ شرط ہے کہ جب انسان کو طاقت ہوا نہیں ضرور ادا کرے۔لیکن جب اس کی طاقت سے بات بڑھ جائے تو وہ معذور ہے۔اگر حج انسان کے مالدار ہونے اور امن و صحت سے مشروط ہے اور اسی طرح اگر زکوۃ کے لئے یہ شرط ہے کہ ایک خاص مقدار میں کسی کے پاس ایسا مال ہو جو اس کی ضروریات سے ایک سال تک بڑھا رہے اور اگر نماز کے لئے یہ شرط ہے کہ جو کھڑا نہ ہو سکے بیٹھ کر اور جو بیٹھ نہ سکے لیٹ کر ادا کرے تو رمضان کے لئے بھی یہ شرط ہے اگر انسان مریض ہو خواہ وہ مرض لاحق ہو یا اپنی حالت ہو جس میں روزہ رکھنا یقینا مریض بنا دے گا جیسے حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت یا ایسا بوڑھا شخص جس کے قومی میں انحطاط شروع ہو چکا ہے یا پھر اتنا چھوٹا بچہ کہ جس کے قومی نشو نما پا رہے ہیں تو اسے روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔اور ایسے شخص کو اگر آسودگی حاصل ہو تو ایک آدمی کا کھانا کسی کو دے دینا چاہئے اور اگر یہ طاقت نہ ہو تو نہ سہی ایسے شخص کی نیت ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے روزہ کے برابر ہے۔اگر روک عارضی ہو اور بعد میں وہ دور ہو جائے تو خواہ فدیہ دیا ہو یا نہ دیا ہو روزہ بہر حال رکھنا ہوگا۔فدیہ دے دینے سے روزہ اپنی ذات میں ساقط نہیں ہو جا تا بلکہ یہ تو محض اس بات کا بدلہ ہے کہ ان دنوں میں باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر میں اس عبادت کو ادا نہیں کر سکتا یا اس بات کا شکرانہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عبادت کرنے کی توفیق بخشی ہے کیونکہ روزہ رکھ کر بھی فدیہ دینا مسنون ہے اور نہ رکھ کر بھی۔روز و رکھ کر جو فدیہ دیتا ہے وہ زیادہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ روزہ رکھنے کی توفیق پانے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور جو روزہ رکھنے سے معذور ہو وہ اپنے اس غذر کی وجہ سے دیتا