خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 267

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء یہ کہا جائے کہ گورنمنٹ چونکہ ہماری امداد نہیں کرتی اس لئے ہم کام نہیں کر سکتے۔دیکھو اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ کہتے کہ گورنمنٹ ہماری کچھ مدد نہیں کرتی اس لئے ہم کیا کریں تو کیا دنیا میں وہ تغیر ہو سکتا تھا جو آپ کے ذریعہ ہوا۔آپ نے جو کچھ کرنا تھا خود کیا اور کسی کی کوئی پرواہ نہ کی۔پس میں طلباء سے بھی کہوں گا کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور خود دین کے کام کرنے کی کوشش کریں۔اُستادوں پر بھروسہ ہی کیوں کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کے محتاج کیوں سمجھتے ہیں۔مثلاً طالب علموں نے لکھا ہے بعض استاد خود ڈاڑھی نہیں رکھتے تو ہم کیا کریں۔میں کہتا ہوں یہی کریں کہ ڈاڑھی رکھیں جب ڈاڑھی رکھنا ہمارا قومی شعار ہے تو پھر کیوں نہ رکھی جائے۔اپنا شعار قائم رکھنے سے اپنی قوم کی عزت ہوتی ہے۔ہماری بھی ایک قومی بنیاد ہے اس کا قائم رکھنا ضروری ہے۔ہر ایک قوم کے قومی شعار ہوتے ہیں ان کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ڈاڑھی کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے عیسائی اور مجوسی منڈاتے ہیں تم رکھو۔آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ڈاڑھی رکھنے سے عبادت زیادہ قبول ہوتی ہے بلکہ اس کی وجہ قومی امتیاز بتا دی۔گوڈاکٹر طبی طور پر بھی ڈاڑھی کے فوائد ثابت کرتے ہیں مگر میں کہتا ہوں اگر اور کوئی بھی فائدہ نہ ہو تو جب یہ ہمارا قومی شعار ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے قائم نہ رکھا جائے اور اس کی پابندی نہ کی جائے۔بعض صوفیاء نے ایک خاص قسم کا لباس مقرر کر دیا ہے ہم نے انصار اللہ کے لئے بیج مقرر کیا ہے اس کی پابندی ضروری ہے۔تو بعض باتیں محض شعار اور علامت کے طور پر اختیار کر لی جاتی ہیں۔اسی طرح یہ بھی شکایت کی گئی ہے کہ استاد خودسر کے اگلے حصہ پر بال رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اول نے اس طرح بال رکھنے کو نا پسند کیا ہے مجھے ایسے بالوں سے اس لئے نفرت ہے کہ اس طرح مردوں میں زنانہ نزاکت پیدا ہوتی ہے مگر میں کہتا ہوں یہ اسلامی شعار کے خلاف ہے۔ڈاڑھی منڈانے والوں کے متعلق میں تحقیقات کروں گا کیونکہ یہ بہت اہم معاملہ ہے کہ ہمارے بچوں کی تربیت جن لوگوں کے سپر د ہو وہ اس طرح اسلامی شعار کی تحقیر کریں۔مگر میں کہتا ہوں اگر کوئی استاد ڈاڑھی منڈاتا ہے تو کیا ہوا کیا گورنر اور وائسرائے ڈاڑھی نہیں منڈاتے جو ہمارے حاکم ہیں۔ہاں ہر شخص کو اپنی چیز بڑی نظر آتی ہے اس لئے طالب علموں کے نزدیک استادوں کا ڈاڑھی منڈانا بہت اہمیت رکھتا ہے مگر ان