خطبات محمود (جلد 12) — Page 257
خطبات محمود ۲۵۷ ۳۵ سال ۱۹۳۰ء نظام جماعت کے متعلق ضروری ہدایات خلیفہ سے ہر ایک احمدی کا براہِ راست تعلق ہے فرموده ۱۷۔جنوری ۱۹۳۰ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں گھر سے تو ایک اور مضمون کے متعلق آج خطبہ پڑھنے کے لئے نکلا تھا لیکن راستہ میں اور جمعہ کیلئے گھر سے نکلنے کے قریب وقت میں مجھے بعض خطوط ایسے طالب علموں کی طرف سے ملے ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں میرا کچھ بیان کرنا ضروری ہے۔شاید طالب علموں کو خیال ہو کہ انہیں کوئی تکلیف پہنچے۔اس لئے میں اس بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں تا ایسا نہ ہو کہ ان طالب علموں کے دل میں خیال پیدا ہو کہ ان کے خطوط ان لوگوں کے پاس پہنچ جائیں گے جن کے قریب انہیں رہنا پڑتا ہے یا کسی اور طریق سے ان کا پتہ لگ جائے گا۔میں انہیں بتا دیتا ہوں کہ ان کے نام ظاہر نہ کئے جائیں گے گوان شکایتوں کی تحقیقات کی جائے گی جو انہوں نے لکھی ہیں۔مجھے ان خطوط کو پڑھ کر نہایت ہی حیرت ہوئی ان طالب علموں کی اخلاقی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے جنہوں نے شکایات لکھی ہیں۔بظاہر یہی خیال آتا ہے کہ ان کی باتوں کو درست سمجھ لوں لیکن اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ استاد کا کام لڑکوں کو اخلاق اور آداب سکھانا اور ان میں دینداری پیدا کرنا ہے یہی کہوں گا کہ وہ باتیں صحیح نہ ہوں اور اگر خدانخواستہ صحیح ہوں تو چن کے متعلق وہ ہیں ایسے لوگوں کا محکمہ تعلیم میں ہونا اس محکمہ کی نیک نامی کا موجب نہیں ہو سکتا۔