خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 255

خطبات محمود ۲۵۵ ان کے اندر پیدا ہو جائے۔یہ بڑائی کا معیار مختلف مقامات پر مختلف ہوتا ہے۔ایک جگہ گرد اور کو بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے اور وہاں کے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ گرد اور صاحب دینی کاموں میں حصہ نہیں لیتے۔لیکن دوسری جگہ کوئی نائب تحصیلدار ہوتا ہے اور وہ حصہ نہیں لیتا تو اسے بڑا آدمی قرار دے کر شکایت کی جاتی ہے اور شکایت کرنے والا خود گرد اور ہوتا ہے وہاں وہ اپنے آپ کو چھوٹا اور نائب تحصیلدار کو بڑا سمجھتا ہے۔اسی طرح اگر کہیں کوئی احمدی ڈپٹی ہو جو دینی کاموں میں حصہ نہ لے تو اسے بڑا قرار دے کر اس کی شکایت کی جاتی ہے اس طرح بڑائی کا معیار بدلتا رہتا ہے۔ایک جگہ جسے بڑا سمجھا جاتا ہے دوسری جگہ وہی اپنے آپ کو چھوٹا قرار دے لیتا ہے۔در اصل اس قسم کی بڑائی اسلام کے نزدیک کوئی بڑائی نہیں۔اسلام اُسی کو بڑا قرار دیتا ہے جو دین میں بڑا ثابت ہو۔پس دوستوں کو اپنے اپنے مقام پر تبلیغ کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے۔میں نے جلسہ پر اعلان کیا تھا کہ میں چھوٹے چھوٹے تبلیغی اشتہار شائع کروں گا جو مختصر ہوں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں شائع ہوتے تھے۔اس سلسلہ کا پہلا اشتہار قریباً مکمل ہو چکا ہے لیکن اس کام کیلئے ہمارے پاس کوئی بحث نہیں اس لئے یہ کام اُسی وقت ہوسکتا ہے جب دوست اس کی طرف توجہ کریں۔میرا اندازہ ہے غالباً پانچ روپے ہزار پر خرچ ہوں گے۔پس قادیان اور باہر کی جماعتوں کو چاہئے کہ تحریک کر کے اس کی اشاعت کا انتظام کریں۔میری غرض یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ اشاعت کی جائے۔ان میں سب باتیں علمی نہیں ہونگی بلکہ کچھ علمی دلائل ہوں گے اور کچھ جذبانی رنگ ہو گا جس میں بتایا جائے گا کہ زمانہ کی حالت بتا رہی ہے کہ اس وقت کسی مصلح کی ضرورت ہے اور اس کی جماعت میں شامل ہوئے بغیر ترقی ممکن نہیں۔میرے نزدیک یہ ایک لاکھ یا کم سے کم پچاس ہزار شائع ہونا چاہئے اس لئے ہر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنی جگہ پر انتظام کر کے اس کی خریداری کے لئے نظارت دعوت و تبلیغ کے پاس آرڈر بھیج دیں۔میں نے ہر رنگ میں اس پہلو پر غور کیا ہے اور آخر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ سلسلہ کی ترقی کے بغیر اسلام کا بچاؤ نہیں۔پہلے یہ بات ایمان کی بناء پر تھی مگر اب مشاہدہ بھی ہو گیا ہے۔میں نے خود بھی مل کر اور دوستوں کو ملاقاتوں کے لئے بھیج کر معلوم کیا ہے کہ مسلمانوں کے اندر قربانی کرنے کی روح مٹ چکی ہے اور ہر کسی کو اپنے نفس کی بڑائی کا ہی خیال ہے اسلامی ہمدردی سے کوئی کام