خطبات محمود (جلد 12) — Page 246
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء صلى الله علوی صر الله کے زمانہ میں منافقین کی جو کثرت تھی وہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں نظر نہیں آتی ۔ کیا اس کی یہ وجہ ہے کہ ان کے زمانہ میں کوئی ایسی خصوصیت تھی یا ان کے اندر ایسی روحانیت تھی کہ کوئی شخص منافق نہ رہا۔ نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے زمانہ میں بہت سہولتیں مسلمانوں کو حاصل ہو چکی تھیں ۔ رسول کریم ﷺ کا زمانہ ابتلاء اور مشکلات کا زمانہ تھا۔ جس کی وجہ سے کمزور لوگ پیچھے ہٹنا چاہتے تھے لیکن انسان کے اندر خدا تعالیٰ نے شرم و حیاء کا ایک ایسا مادہ رکھا ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے سے بچکچاتا بھی ہے اس لئے ایسے لوگ اپنے پیچھے ہٹنے پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے اور منافقت سے کام لیتے تھے ۔ پھر یہ بھی انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اکیلا پیچھے ہٹ کر نکو بنا نہیں چاہتا اس لئے وہ کوشش کرتا ہے کہ میں اور لوگوں کو بھی ساتھ شامل کر لوں تا جماعت ہو جانے سے ندامت میں کچھ کمی ہو جائے لیکن حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا زمانہ ۔ ترقیات اور ترقہ کا زمانہ تھا۔ اگر چہ کچھ تکلیفیں بھی تھیں لیکن وہ بات نہ تھی جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں تھی اس لئے جو لوگ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں منافق تھے ۔ وہ ان کے زمانہ میں مومن ہو۔ ہو گئے ۔ کئی لوگ لوگ غلطی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے تمام منافق مار دیئے تھے ۔ اگر واقعی یہ بات ہوتی یہ بات ہوتی تو قرآن احادیث اور تاریخ اس کے متعلق خاموش نہ ہوتیں ۔ آخر جو مارے گئے وہ دوسروں کو بھی نظر آتے ہوں گے پھر کیا وجہ ہے کہ کسی نے ان کے مارے جانے کا ذکر نہیں کیا ۔ مگر ہمارے پاس اس بات کے غلط ہونے کا ایک یقینی ثبوت بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ حضرت عمر نے رسول کریم ﷺ کی وفات پر فرمایا آپ ہرگز فوت نہی پر فرمایا آپ ہرگز فوت نہیں ہوئے اور نہ ہی فوت ہو سکتے ہیں جب تک کہ سارے منافقین اور کافروں کا صفایا نہ ہو جائے کے پس یہ گواہی بتاتی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی منافقین موجود تھے۔ اس کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ عليه ایک صحابی کی روایت ہے جب کوئی شخص فوت ہوتا تو ہم یہ دیکھتے تھے کہ حذیفہ اس کے جنازہ میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں ۔ اگر حذیفہ شامل ہوتے تو ہم بھی اس کا جنازہ پڑھ لیتے اور اگر وہ شامل نہ ہوتے تو ہم بھی نہ ہوتے ۔ کیونکہ حذیفہ کو کافروں اور منافقوں کا علم حاصل کرنے کی ایک دھت تھی اور وہ رسول کریم ﷺ سے منافقوں کے نام بھی دریافت کر لیتے تھے۔ کے اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد بھی منافق موجود تھے لیکن ان کی وہ کثرت نظر نہ آتی جو ابتدائی زمانہ میں تھی ۔ پس اس سے صاف معلوم ہوا کہ اس ترقہ کے زمانہ میں ان منافقین صا الله صلى الله الله EXXXXXXXXXXXXXX