خطبات محمود (جلد 12) — Page 21
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء باغیوں کو بھی کہ انہوں نے حکومت کے خلاف تلوار اُٹھائی، ملک میں بدامنی پھیلائی ہاں اگر وہ نکل جانے کا مطالبہ کرتے اور انہیں جانے نہ دیا جاتا تو حق بجانب ہوتے۔لیکن اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان کی بغاوت قطعا نا جائز نہایت ہی خطرناک اور امن عامہ کو برباد کرنے والی ہے۔اب رہا یہ امر کہ آئندہ کیا ہو اس کے متعلق ہمارا یہی اصل ہے کہ جس معاملہ میں ہم دخل نہیں دے سکتے اس کے متعلق کچھ کہنا فضول ہے بھلا غور تو کرو۔ہمارے ریزولیوشنز اور اظہاری ناراضی کے جلسے بچہ سقہ اور شنواریوں کی بغاوت پر کیا اثر ڈال سکتے ہیں۔بے شک اس امر کا اظہار کر دو کہ بچہ سقہ اور باغیوں نے غلطی کی اور دنیا کو بتا دو کہ ہم ان کی حرکات کو نا پسند کرتے ہیں اور ہمارے یہ خیالات ہیں مگر یہ پوزیشن صرف احمدیوں کی ہے۔یہ حق ہمیں ہی حاصل ہے کہ بچہ سقہ کو گناہ گار قرار دیں۔جو لوگ لڑکی اور ایران میں بغاوتوں کے وقت باغیوں کے ساتھ رہے ہیں ان کا کوئی حق نہیں کہ بچہ سقہ کو بُرا کہیں کیونکہ جس طرح بچہ سقہ نے امان اللہ خاں کے خلاف بغاوت کی ہے اسی طرح مصطفی کمال پاشا نے شاہ ترکی کے خلاف بغاوت کی تھی اور اسی طرح رضا خاں نے شاہ ایران سے کی تھی۔جو لوگ ان کی تائید اور حمایت کرتے رہے ہیں وہ بچہ سقہ کے خلاف کس طرح آواز اُٹھا سکتے ہیں۔پس اگر مصطفی کمال اور رضا خاں بغاوت کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیڈر بن سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ بچہ سقہ کو مسلمان لیڈر نہ سمجھیں لیکن ہم نے مصطفی کمال پاشا کی بغاوت کو بھی بغاوت قرار دیا، رضا خاں کی بغاوت کو بھی بغاوت قرار دیا اور اب بچہ سقہ کی بغاوت کو بھی بغاوت ہی کہتے ہیں ہم ان تینوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں۔انہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں غلطی کی۔اپنے اپنے زمانہ سے میری یہ مراد ہے کہ بعض اوقات بغاوت کرنے والا ہی بادشاہ ہو جاتا ہے اور اس وقت اُس کی اطاعت ضروری ہوتی ہے جب بغاوت کرنے والا ملک پر پوری طرح قابض اور مسلط ہو جائے تو پھر اُس کی اطاعت کرنی چاہئے۔اُس وقت اس کی اطاعت اسی طرح فرض ہو جاتی ہے جیسے پہلے بادشاہ کی۔مثلاً اگر بچہ سقہ افغانستان پر اسی طرح قابض ہو جائے جیسے مصطفیٰ کمال پاشائر کی پر قابض ہو گئے تھے یا رضا شاہ ایران پر تو پھر اس کے خلاف اُٹھنے کو بھی ہم بغاوت ہی قرار دیں گے۔یہی حال ہندوستان کا ہے۔اگر کوئی قوم انگریزوں کے خلاف جنگ کرے گی تو اس جنگ کو ہم بغاوت قرار دیں گے لیکن اگر انگریز ہتھیار ڈال دیں اور اطاعت قبول کر لیں تو پھر جو قوم حکمران ہو گی اس کی اطاعت ضروری سمجھیں گے۔