خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 216

خطبات محمود ۲۱۶ سال ۱۹۲۹ء سے اخلاص کا نمونہ دکھایا ہے۔ اس مدرسہ کے طلباء کے حالات ان کی غربت زمانہ تعلیم اور ان کے اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں انہوں نے ایسا نمونہ پیش کیا ہے جس سے دوسرے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پچاس اس روپے انہوں نے پہلے دیئے تھے اور ستر رویے ! اور ستر روپے اب دیئے ہیں گویا ان کا چندہ ایک سو میں ہو گیا۔ جلسہ کے لئے مالی پہلو کے علاوہ اور بھی کئی قسم کی قربانیاں ہیں ۔ وقت کی قربانی، جگہ کی قربانی آرام کی قربانی کی بھی ان دنوں میں ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے مالی پہلو کے بعد میں دوسری قربانیوں کی طرف دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں ۔ سب سے پہلی چیز جس کی جلسہ کے لئے ضرورت ہوتی ہے وہ کا رکن ہے ن ہیں ۔ سلسلہ کے مقررہ کا رکن ان تمام کار کا۔ ن تمام کاموں کو قطعاً نہیں کر سکتے جو جلسہ کے دنوں میں جماعت کو کرنے پڑتے ہیں اور جب تک مزید کارکن میسر نہ آئیں جلسہ کا انتظام صحیح طور پر نہیں ہو سکتا۔ جلسہ کے انتظام میں میں بہت سے نقائص ! سے نقائص اس وجہ سے رہ جاتے ہیں کہ پورے کا رکن میسر نہیں آ سکتے۔ اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ ان دنوں میں قادیان کے دوست جس خلوص سے قربانی کرتے ہیں وہ موجب صد شکر و امتنان ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے کو دل چاہتا ہے کہ سلسلہ میں ایسی اعلیٰ اخلاص کی روح نظر آتی ہے ۔ خدا کرے یہ روح اور ترقی کرے کیونکہ اسی پر دنیا کی کامیابی کا انحصار ہے اس کا نام تقولٰی ہے اور اسی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا: ہر ایک نیکی کی جڑھ اتقا ہے بڑھ رہی سب کچھ رہا ہے اگر یہ وہ اخلاص جو انسان کے اندر قربانی کیلئے گدگدی پیدا کرتا ہے اور قربانی کے بعد اس کے اندر افسردگی نہیں بلکہ بشاشت پیدا کرتا ہے اس کا نام اتقاء ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں تقویٰ کیا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ جب انسان کے اندر خدا تعالیٰ کے دین کے لئے قربانی کی خواہش پیدا ہو اور قربانی کرنے کے بعد اس کے اندر بجائے کسی قسم کی افسردگی یا ملال کے بشاشت اور خوشی ہو اور وہ اسے اپنے اوپر اللہ تعالی کا ایک احسان سمجھے کہ خدمت دین کا موقع مل گیا تو وہ یقین کر لے کا کر کہ اسے اتقاء کا مقام مل گیا ۔ اور اس خواہش میں وہ جتنی ترقی کرے اتنا ہی تقوی میں بڑھتا ہے XXXXXXXXXX