خطبات محمود (جلد 12) — Page 209
خطبات محمود ۲۰۹ سال ۱۹۲۹ء اپنے لئے نہایت ضروری سمجھیں۔لیکن اگر کسی وقت کوئی ناروا حرکت کر بیٹھے تو اسے چاہئے کہ جذبات سے تعلق رکھنے والے معاملات میں جلدی پشیمان ہو اور دل میں محسوس کرے کہ اس نے بہت بُرا کیا ہے اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کے لئے تو بہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متواتر فرمایا ہے کہ جذبات کو اپنے قابو میں رکھنا چاہئے پھر بھی میں دیکھتا ہوں بعض لوگ جو دوسروں کو تو آپ کی باتیں سناتے ہیں اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی تلقین کرتے ہیں خود اس بات کو بھلا دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔بلکہ بعض تو جھوٹے ہو کر بچے اور ظالم ہو کر اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں پھر کس طرح سمجھا جائے کہ ان میں ایمان کا ذرہ بھی باقی ہے کیونکہ اگر ایمان ہوتا تو ہوش میں آنے پر وہ اس ظلم کا ازالہ کرتے جو اُن سے سرزد ہوا اور اگر ایسا نہ کر سکتے تھے تو کم از کم اپنے اندر ندامت ہی محسوس کرتے۔لیکن اگر وہ ظلم کے ارتکاب سے بچ نہیں سکتے اور اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتے پھر جوش کے وقت کے گذر جانے پر ازالہ کی کوشش نہیں کرتے اور نہ ندامت محسوس کرتے ہیں بلکہ اگر سارے حالات گذر جاتے ہیں اور ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کا ایمان دکھاوے کا ہے۔وہ بلبلہ کی طرح ہے جس کے اوپر پانی اور اندر صرف ہوا ہے کیونکہ اگر اندر بھی پانی ہوتا تو وہ پانی کی سی کیفیت اختیار کرتا۔میں دوستوں سے پوچھتا ہوں وہ سوچیں کتنی دفعہ ان پر ظلم ہوتا ہے جسے وہ برداشت کرتے ہیں۔برداشت اسے نہیں کہتے کہ کسی طاقتور نے گردن پکڑی ہو اور اپنے اندر اس کے مقابلہ کی طاقت نہ ہو تو کہہ دیا جائے کہ ہم برداشت کر رہے ہیں۔بلکہ برداشت یہ ہے کہ انسان سزا دے سکے اور پھر نہ دے۔سوائے اس کے کہ شریعت یا انتظام نے تعزیر کا کام اس کے سپرد کیا ہو۔جیسے ماں باپ استاذ والی، قاضی یا حاکم ہوتے ہیں۔ان حالات میں اخلاقاً ان کا حق ہے کہ ایک دائرہ کے اندر تعزیر سے کام لیں۔لیکن اس سے باہر جہاں قضاء یا ولایت یا تنظیم کا کوئی تعلق نہیں مثلاً اپنے معاملات میں اگر کوئی دست درازی کرتا ہے اور ظلم کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ وہ شریعت کا احترام نہیں کرتا۔پس میں پھر ایک دفعہ دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگ اس شخص کے متبع ہیں جس کا نام مسیح ہے۔یہ صحیح ہے کہ بعض دفعہ ایک چھوٹی چیز کو بڑی