خطبات محمود (جلد 12) — Page 208
خطبات محمود سال ۹۲۹ قبول بھی ہو جاتی ہے۔لیکن جو شخص جھوٹ بولے یا بے جا تشدد اور سختی کرے اور پھر اس پر ندامت نہ محسوس کرے اس اسے جو نقصان ہو اس کے ازالہ کی بھی کوشش نہ کرے اور پھر یہ بھی کہے کہ میں نے جو راستہ اختیار کیا وہ صحیح ہے اور اس کے بغیر گزارہ ہی نہیں ہو سکتا تو وہ سمجھ لے کہ وہ صحیح راستہ پر نہیں ہے۔اگر کوئی شخص کسی خاص جوش یا غصہ کے ماتحت ایک فعل کر دے لیکن بعد میں ہوش آ جانے پر ا۔اس فعل پر نادم ہو اور اس کے ازالہ کی کوشش کرے تو ایسا شخص خدا کی مغفرت کا امیدوار ہو سکتا ہے۔لیکن جو شخص ہوش آ جانے پر بھی ندامت اور افسوس نہ کرے وہ اللہ تعالٰی کے سامنے کوئی عذر پیش ہیں کر سکتا۔میں نے بہت دفعہ سمجھایا ہے کہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو انسانیت کا معیار بنا چا ہے۔بے شک ہمارے اندر بھی جذبات ہیں، ہمیں بھی غصہ آ سکتا ہے لیکن ضروری ہے کہ ہم بنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت انہیں صرف کریں۔اور اگر کبھی کوئی شخص ان ان سے مغلوب بھی ہو جائے تو اسے چاہئے کہ جلد از جلد ہوش میں آ کر اس پر اظہار ندامت و افسوس کرنے لیکن افسوس ہے کہ بعض لوگ بعض اوقات جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتے اور پھر بعض فخر کرتے اور کہتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے کیا وہ درست ہے اور ایسا ہی کرنا ضروری تھا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔اگر ان کی یہ بات صحیح مان لی جائے تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ وہ مذہب جھوٹا ہے جسے وہ مانتے ہیں۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ کہہ دیں کہ مذہب کا فلاں حکم ایسا ہے کہ جس پر ہم سے عمل نہیں ہو سکا لیکن یہ کہنا کہ اس پر عمل ہو ہی نہیں سکتا اور اسے توڑنے کے بغیر گزارہ ہی نہیں ان کے مذہب کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ایک مسلمان تاجر اگر سود لیتا ہے لیکن وہ تسلیم کرتا ہے کہ غلطی کر رہا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ مذہب کو جھوٹا نہیں قرار دیتا بلکہ اپنے آپ کو جھوٹا سمجھتا ہے۔لیکن اگر وہ یہ کہے کہ سودضروری ہے اس کے بغیر گزارہ ہو ہی نہیں سکتا تو اس کے معنی یہی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرتا ہے اور اسلام کو جھوٹا قرار دیتا ہے جس نے سود لینے اور دینے سے منع کیا ہے۔گویا ایک ہی چیز دو مختلف نقطہ ہائے نگاہ کی وجہ سے بدل جاتی ہے۔ایک کے لحاظ سے انسان ایمان سے خارج ہو جاتا ہے اور دوسرے نقطۂ خیال کے لحاظ سے اس کے لئے تو بہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ سب معاملات میں اول تو اسلام کے مطابق عمل کریں اور اسے