خطبات محمود (جلد 12) — Page 18
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء صل الله سو سال کے بعد جو اُن کی نسلیں ہوں گی وہ کہہ سکتی ہیں کہ ہمارے آباء واجداد نے بہت تھوڑا اتغیر کیا تھا دراصل اس سے بہت زیادہ تغیر کی ضرورت ہے۔ اسی اصل کے ماتحت ان کی یہ بات بھی درست تسلیم کرنی پڑے گی ۔ فرض کرو آج سے سو سال کے بعد ایک قوم اٹھے اور کہے کہ رمضان کے روزے فضول ہیں یا یہ کہ روزہ میں ہلکی غذا کھا لینی جائز ہے یا کوئی یہ کہہ دے کہ جب رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اصل روزہ نواہی اور فواحش سے احتراز کا نام ہے، تو اس اصل کے ماتحت ان کا یہ خیال کیونکر غلط کہا جا سکتا ہے اور اگر یہ باتیں صحیح مان لی جائیں تو اس طرح اسلام کا کیا باقی رہ جاتا ہے۔ کیا یہ وہی اسلام ہو گا جسے رسول کریم ﷺ نے دنیا میں پیش کیا تھا۔ پس یہ سوال نہیں کہ وہ اسلام سے متنفر ہو گئے ہیں بلکہ یہ ہے کہ اسلام سے نسبت رکھتے ہوئے وہ ا۔ وہ ایسے طریقے اختیار کر رہے ہیں جن سے اسلام کی بربادی کا امکان ہے۔ یہی حال افغانستان کا ہے یہ غلط ہے کہ وہاں ایسی اصلاحات نہیں ہوئیں جو اسلام پر برا اثر ڈالتی ہیں ۔ ہم اپنے علم کی بناء پر جانتے ہیں کہ وہاں ایسی اصلاحات کا نفاذ ہوا اور یہ یورپ کا شائع کردہ پرو پیگنڈا نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ بھی حالات کے لحاظ سے وہاں یقیناً ایسی باتیں ہوئیں جنہیں مسلمانوں کا ایک طبقہ جن میں ہم بھی شامل ہیں نا جائز سمجھتا ہے۔ وہاں ایسا جبر ہوا جو جائز نہیں ۔ یقینا وہاں پردہ اُٹھایا گیا اور ایسے رنگ میں اُٹھایا گیا جسے سب مسلمان نا جائز سمجھتے ہیں۔ پردہ سے بعض لوگ چہرہ کو نکال دیتے ہیں اور ہم بھی خاص ضرورت کے وقت اسے جائز سمجھتے ہیں مگر ایسے لوگ بھی جو چہرہ کو پردہ سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں افغانستان کے پردہ اُٹھا دینے کو نا جائز سمجھتے ہیں۔ ملکہ ثریا کی ایسی تصویر میں شائع ہوئیں جن میں ان کی باہیں بھی تنگی تھیں اور ایسائی گاؤن پہنا ہوا تھا جو انگریز عورتیں پہنتی ہیں۔ تو وہاں پردہ کو ایسی صورت میں مٹایا گیا جسے مسلمانوں کا وہ طبقہ بھی جو پردہ کی بہت کم تعریف کرتا ہے نا جائز سمجھتا ہے۔ اسی طرح اور بھی ا ایسے امور وہاں اختیار کئے گئے جن کو اسلام میں دست انداز ) اندازی سمجھا گیا ۔ یا یہ سمجھا گیا کہ ان کا نتیجہ اسلام میں دست اندازی ہوگی ۔ جیسے جمعہ کی بجائے اتوار کی چھٹی کرنا حالانکہ مسلمانوں کو جمعہ کی عظمت سے آگاہ کرنے کے لئے قرآن کریم نے سبت پر بہت زور دیا ہے اس سے قرآن کا ان کا مقصد یہودیوں کو ہوشیار کرنا۔ کرنا نہ تھا بلکہ یہ مطلب تھا کہ تا مسلمان بھی یہودیوں والی غلطی نہ کر بیٹھیں۔ یہ حالات اس قابل تھے کہ ان پر اعتراض کیا جاتا مگر ہم خاموش