خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 19

خطبات محمود ور سال ۱۹۲۹ء رہے زیادہ سے زیادہ ایک خطبہ میں میں نے بیان کیا کہ ہم ان باتوں کو خلاف اسلام سمجھتے ہیں اور ان سے متفق نہیں ہیں اس سے زیادہ ہم نے ان باتوں میں حصہ نہ لیا اور نہ اس سے زیادہ حصہ لینا جائز سمجھتے تھے۔پس ان باتوں کے متعلق یہ کہنا کہ یہ یورپین پرو پیگنڈا ہے غلط بات ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ امان اللہ خاں یورپ گئے وہاں ان کی بہت عزت ہوئی ان کا بڑا ادب واحترام کیا گیا اس لئے کہ وہ ایک بڑھنے والی طاقت کے حکمران تھے مگر وہ اس اعزاز کا شکار ہو گئے۔وہ گئے تو دوسروں کو شکار کرنے کے لئے تھے اور یورپین حکمرانوں نے سمجھا بھی یہی کہ کہ ہم شکار ہورہے ہیں اور انہیں کابل کے بادشاہ کا شکار ہونے کی ضرورت بھی تھی لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ امان اللہ خاں خود شکار ہو گئے اور یہ سخت غلطی ہوئی۔مگر سوال یہ ہے کہ باوجود اس کے جو کچھ ہوا وہ درست ہے یا نہیں؟ سو یا درکھنا چاہئے ہمارا یہ مسلک ہے کہ ہر ملک کی رعایا کو ہر حالت میں اپنے حکمران کی اطاعت کرنی اور اس کا وفادار رہنا چاہئے اگر وہ مذہب میں دخل دیتا اور دست اندازی کرتا ہے تو انہیں صرف اعلان کے ذریعہ ان باتوں سے اپنی براءت کر دینی چاہئے لیکن اگر وہ ان احکام پر عمل کرنے کیلئے مجبور کرے اور کہے اسی طرح کرو جس طرح میں کہتا ہوں تو انہیں چاہئے کہ خاموشی کے ساتھ ملک چھوڑ کر باہر چلے جائیں اور بغاوت بالکل نہ کریں۔ہمارا یہ عقیدہ ہر حکومت کے متعلق ہے ہم یہ انگریزوں کے متعلق ہی نہیں کہتے بلکہ ہر حکومت کے لئے کہتے ہیں۔کابل کے متعلق بھی یہی کہتے ہیں وہاں جن لوگوں نے ہمارے اس عقیدہ کے خلاف کیا انہوں نے ہمارے نزدیک بہت بُرا کیا۔گو افغانستان کی حکومت نے جو کچھ کیا تھائرا کیا تھایہ غلطی تھی کہ اصلاحات کو ضرورت سے زیادہ حد تک پہنچا دیا۔کابل میں اصلاحات کی بے شک ضرورت ہے اور ہم اسے بہت مبارک سمجھتے اگر اصلاحات کو اسلامی حدود کے اندر رکھا جاتا۔ہم اسے ایک رحمت کہتے لیکن وہاں ایسی اصلاحات کی گئیں جو حقیقت سے تعلق نہیں رکھتیں اور اسلام کی حقیقت سے دور لے جانے والی کوئی اصلاح مفید نہیں ہو سکتی۔ہم ان لوگوں میں سے نہیں جو افغانستان کی شرع کے خلاف اصلاحات کو بھی درست سمجھیں ہم ان باتوں کو شرعاً درست نہیں سمجھتے اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ یہ غلطی ہوئی مگر باوجود اس کے جنہوں نے بغاوت کی ان کے فعل کو بھی درست نہیں سمجھتے۔ہمارے نزدیک بغاوت کرنے والوں نے غلطی کی مگر میں سمجھتا ہوں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہہ ہے کوئی کہے ایک طرف تو بغاوت کو ناجائز کہا جاتا ہے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ قرار دیا جاتا