خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 17

خطبات محمود 16 سال ۱۹۲۹ء مانی گئی اور ہم نے کچھ کیا بھی نہ تو اس کا نتیجہ سوائے اس کے کیا ہوگا کہ دنیا محسوس کرے گی یہ قوم فضول شور مچانے والی ہے کر کچھ بھی نہیں سکتی اور پھر کبھی ہماری بات کی پرواہ نہ کی جائے گی۔افغانستان کے حالات کے متعلق بعض لوگ یہی شور مچاتے رہے کہ وہاں کوئی بات ایسی نہیں کی جا رہی جو اسلام کے خلاف ہو اور یہی باتیں پہلے ترکوں کے متعلق کہی جاتی تھیں کہ یہ سب یورپین پرو پیگنڈا ہے لیکن اب علی برادران میں سے مولوی محمد علی صاحب نے بھی ان باتوں کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے لکھا ہے ایک مملاں نے مجھے بتایا کہ یہاں ہمارے لئے قرآن پڑھنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔اب ان کی نسبت تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ گورنمنٹ کی طرف سے باتیں پھیلاتے ہیں۔انہوں نے اپنی ساری عمر یا تو قید میں گزاری ہے یا گورنمنٹ کی مخالفت میں۔جب پہلے پہل یہ خبریں شائع ہوئیں تو میں خاموش رہا اور سمجھا کہ شاید جھوٹ ہی ہوں لیکن جب ہمارے آدمی وہاں گئے اور انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ واقعی ترک اسلام کے خلاف چل رہے ہیں تو مجھے یقین آیا۔وہ اگر چہ اجتہادی رنگ میں ہی ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام خدا اور رسول پر ایمان لانے کا نام ہے باقی باتوں کو وہ رسوم سمجھتے ہیں اور ان میں تغیر و تبدل جائز قرار دیتے ہیں اس لئے یہ تو ہم نہیں کہتے کہ ترکوں کو اسلام سے تعلق نہیں رہا اور وہ اسلام سے منتظر ہو چکے ہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ اسلام کے ایسے معنی کر رہے ہیں کہ ان کے رائج ہونے کی صورت میں اسلام کے لئے سخت خطرہ ہے۔جیسے عیسائیوں کی مثال ہے آج سے اٹھارہ سو سال پہلے جس طرح عیسائی اپنے مذہب کے لئے قربانیاں کرتے تھے ویسی ہی قربانیاں کرنے والے آج بھی موجود ہیں مگر موجودہ عیسائیوں کا مذہب وہ نہیں جو اٹھارہ سو سال قبل کے عیسائیوں کا تھا۔پس یہ مطلب نہیں کہ ترک اسلام سے متنفر ہو چکے ہیں یا یہ کہ اسلام کی عزت ان کے دلوں میں نہیں ہے یا وہ اسلام کے لئے آج جان دینے کے لئے تیار نہیں۔میرے خیال میں ترک آج بھی اس اسلام کے لئے جسے وہ اسلام سمجھتے ہیں اُسی طرح جانیں فدا کرنے کے لئے تیار ہیں جس طرح ان کے آباء واجداد اس اسلام کے لئے جانیں قربان کرتے تھے جسے وہ اسلام سمجھتے تھے۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ ترک اسلام میں جو تغیرات کر رہے ہیں ان کا اثر اسلام پر کیا پڑے گا۔اگر صرف خدا اور رسول پر ایمان کو اسلام سمجھا جائے اور باقی سب باتیں رسوم قرار دیدی جائیں تو نماز حج اور روزہ وغیرہ میں تغیر کیوں نہ کیا جائے۔آج اگر ان احکام میں تھوڑا بہت تغیر تسلیم کر لیا جائے تو آج سے