خطبات محمود (جلد 12) — Page 185
خطبات محمود ۱۸۵ (۲۵) سال ۱۹۲۹ اپنی خداداد استعدادوں سے دوسروں کو مستفید کرو فرموده ۱۱ - اکتوبر ۱۹۲۹ء ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : انسانی فطرت کے مطالعہ سے یہ بات گلی طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ انسانوں کی استعداد میں مختلف ہوتی ہیں ۔ کسی کے اندر زیادہ قابلیت ہوتی ہے اور کسی کے اندر کم ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو چونکہ مکلف بنایا ہے اور اگر وہ اس کی طرف سے آنیوالی آواز کو نہیں سنتا تو وہ مؤاخذہ کے نیچے ہے اس لئے ایک قلیل معیار ایسا رکھا گیا ہے جس سے اُتر کر کوئی انسانی دماغ نہیں ہوتا سوائے اس صورت کے کہ وہ بگڑ جائے اور انسان پاگل ہو جائے ۔ دنیا میں جس قدر چیزیں ہم دیکھتے ہیں تمام کے اندر اختلاف پایا جاتا ہے۔ مدارج کے لحاظ سے ہر چیز کی ایک قلیل سے قلیل اور ایک بڑی سے بڑی حد بندی ہوتی ہے اور یہ حالت ہم ہر چیز میں دیکھتے ہیں۔ انسان کے قد کو ہی لے لو ایک چھوٹے سے چھوٹا قد ہو گا جس سے چھوٹا اور نہ ہو گا اور ایک بڑے سے بڑا ہو گا جس سے بڑا اور نہ ہو گا لیکن دونوں کے درمیان مختلف قد ہیں اور اگر زیادہ باریکی سے ناپنے کا کوئی آلہ ہوتا تو شاید معلوم ہو جاتا کہ دنیا میں دو انسانوں کا بھی ایک جتنا قد نہیں ۔ یہی حال بینائی کا ہے ایک کم سے کم اور ایک زیادہ سے زیادہ بینائی ہوگی پھر درمیان میں لاکھوں اقسام کی بینائیاں ہونگی ۔ پھر یہی حال شنوائی کا ہے یہی حال موٹا ہے اور دُبلے پن کا ہے۔ ایک زیادہ سے زیادہ موٹا ہوگا ہو گا جس سے سے زیادہ زیادہ موٹا نہ ہوگا اور اور ایک کم سے کم لم دبلا دبلا : ہو گا جس کم و بلا کوئی نہ ہوگا درمیانی درجہ میں ہزاروں دبلے اور موٹے ملیں گے۔ انسان کے اعضاء کا بھی سے