خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 168

خطبات محمود ۱۶۸ سال ۱۹۲۹ء وہ جس مقصد کے لئے کھڑے ہوئے تھے وہ ان کو حاصل ہوا اور ساتھ ہی اور بھی انعام حاصل ہوئے اگر مسلمانوں کو صرف مال و دولت ملتی سلطنت و حکومت حاصل ہوتی ، مگر دین نہ حاصل ہو۔ تا تو یہ قطعاً ان کی کامیابی نہ سمجھی جاتی ۔ ہاں اگر رسول کریم علیہ فرماتے کہ میں دولت جمع کرنے یا سلطنت قائم کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں اور یہ ہو جاتا تو اسے کامیابی سمجھا جاتا مگر آپ نے جو کچھ کہا وہ یہ تھا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے تعلیم لایا ہوں اسے میں دنیا میں پھیلاؤں گا یہ تعلیم جب پھیل گئی تو معلوم ہوا آپ کو کامیابی حاصل ہو گئی اور آپ کامیاب ہو گئے ۔ اسی اصل کو مد نظر رکھ کر ہم بہائیوں کو دیکھتے ہیں۔ بہاء اللہ کا منشاء یہ تھا کہ شریعت کی نئی کتاب اور نئی تعلیم د اور نئی تعلیم دینا میں پھیلائیں ۔ اسلام کو اور قرآن کو نَعُوذُ بِاللهِ) مٹادیں اور اس کی جگہ بہائیت کو قائم کر دیں ۔ چنانچہ انہوں نے نئی تعلیم پیش بھی کی ۔ بارہ کی بجائے انیس مہینے رکھے دنوں کے نام الگ مقرر کئے نمازیں تین کر دیں، عبادت کا طریق بدل دیا آیات نئی بنائیں، زنا کی سز او مثقال سونا رکھی ۔ یہ اور بات ہے کہ اس قسم کی باتیں غیر معقول ہوں اگر کوئی غریب زنا کا مرتکب ہو تو اس کے لئے اتنا سونا دے دینا مشکل ہے اور اگر کوئی امیر مرتکب ہو تو وہ گویا اتنا سونا دے کر اس کا بار بار ارتکاب کرتا رہے۔ اس وقت میں اس تعلیم کی خوبی یا عدم خوبی کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا بلکہ یہ بتانا چاہتا ہتا ہوں ہوں کہ کئی قسم کے کے نئے نئے احکام احکام پیش پیش کئے گئے ہیں ۔ یہ احکام اگر و میں چل جاتے ان پر عمل کرنے والی کوئی جماعت ہوتی اور دنیا میں انہیں مقبولیت حاصل ہو رہی دنیا ہوتی تو سمجھا جاتا کہ بہائی کامیاب ہو رہے ہیں ۔ مگر اور تو اور بہاء اللہ کے بیٹے نے بھی کبھی ان احکام پر عمل نہ کیا ۔ عبد البہاء آخری عمر تک مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھتا رہا اور قرآن کا درس دیتا رہا حالانکہ وہ بہاء اللہ کا جانشین تھا۔ جب اس کا جانشین بھی اس کے احکام پر عمل نہ کر سکا تو کسی اور نے کیا کرنا تھا۔ یہاں تک یہ لوگ دھوکا دیتے ہیں کہ ایک شامی جو ہمارے مدرسہ میں پڑھاتے ہیں اب تک نہیں مانتے کہ عبد البہاء مسلمان نہ تھے ۔ ان کے باپ سے ان کا دوستانہ تھا ان کے پاس آتے جاتے تھے اور ہر طرح اپنے آپ کو مسلمان اور اسلامی عقائد کا پابند ظاہر کرتے تھے۔ پس جس تعلیم کا چرچا ہی نہیں خود اس کے پھیلانے والوں نے اسے مانا ہی نہیں اسے پیش کرنے والے کو کیا کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ جتھہ بنا لینا کوئی کامیابی نہیں ۔ مگر میں تو کہتا