خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 165

۱۹۲۹ ۱۶۵ خطبات محمود دوسروں پر اپنا رعب ڈالنے کے لئے امریکہ میں تو یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان میں لاکھوں بہائی ہیں اور ہندوستان میں کہتے ہیں امریکہ میں لاکھوں ہیں۔اس نوجوان نے بتایا بہائیوں نے ہمارے محلہ میں اپنی عبادت گاہ کی بنیاد کھو دی تھی مگر ابھی تک بنی نہیں۔کیا ہندوستان میں مالدار بہائی نہیں کہ روپیہ بھیج کر اسے بنائیں۔میں نے کہا ہم نے تو اس عبادت گاہ کی بڑی شاندار تصویر دیکھی ہے کیا وہ بنی نہیں ؟ اس نے کہا نہیں۔غرض ان لوگوں کا یہ طریق ہے کہ بات کچھ نہیں ہوتی مگر یہ اسے بڑھا کر کچھ کا کچھ دکھاتے ہیں۔ایران میں بھی ہم نے ان کی تعداد معلوم کرائی۔جہاں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ لکھوکھبا ہیں۔مگر وہاں دو اڑھائی ہزار سے زیادہ معلوم نہیں ہوئے۔دراصل اس فرقہ کی بنیا د قرامطیہ فرقہ کی طرح کی ہے کہ یونہی باتیں اُڑاتے رہتے ہیں۔چنانچہ جب قادیان میں ان کی شرارت کا پتہ لگا اور میں نے ان کے متعلق کارروائی کرنی چاہی تو حکیم ابوطاہر صاحب جو کلکتہ کے روساء مین سے ہیں اور اچھا اثر رکھنے والے ہیں اور وہاں کی جماعت احمدیہ کے امیر ہیں۔ان سے محفوظ الحق علمی کے تعلقات تھے۔یہ وہ شخص تھا جو چند سال سے ہی احمدی کہلاتا تھا اس کی ایک کتاب دیکھی گئی جس میں اس نے ۱۹۲۲ء سے احمدیت کے خلاف اور بہائیت کی تائید میں نوٹ لکھے ہوئے تھے۔یہ جب احمدی ہوا اُسی وقت میرے پاس چٹھی آئی تھی کہ اس سے ہوشیار رہنا چاہئے لیکن میں نے سمجھا چونکہ یہ احمدی ہوا ہے۔کسی نے دشمنی سے اس کے متعلق لکھا ہے مگر بعد میں معلوم ہوا اس کی غرض احمدی ہونا نہ تھی بلکہ احمدی کہلا کر بہائیت کی تبلیغ کرنا تھی۔حکیم ابوطاہر صاحب سے وہ بہائیت کے متعلق بھی باتیں کیا کرتا اور ساتھ ہی کہتا کسی سے ان باتوں کا ذکر نہ کیا جائے یہاں کے لوگ ان باتوں کو سمجھ نہیں سکتے۔جب یقینی طور پر ثابت ہو گیا کہ محفوظ الحق بہائی ہے اور میں نے اس کے متعلق اعلان کرنا چاہا تو حکیم ابوطاہر صاحب کا میرے پاس پیغام آیا جو انہوں نے بہت گھبراہٹ کی حالت میں بھیجا کہ اگر علمی کی علیحدگی کا اعلان کیا گیا تو جماعت کا ایک بہت بڑا آدمی بھی فورا علیحدہ ہو جائے گا۔میں نے جب اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا وہ حافظ روشن علی صاحب ہیں۔دین کے معاملہ میں تو کسی کی پرواہ نہیں کی جاسکتی۔میں نے کہا اگر حافظ صاحب بھی جانا چاہیں تو جائیں۔مگر یہ بات ہی بالکل غلط نکلی۔دراصل وہ یونہی کہتے رہے