خطبات محمود (جلد 12) — Page 164
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء رہائش ہے۔ اس کی تصدیق وہاں کی گورنمنٹ کے ذریعہ کرائی جاسکتی ہے۔ عشہ میں چند آدمی ان کے ہم خیال ہیں اور حیفا جہاں شوقی آفندی بہاء اللہ کا نواسہ رہتا ہے وہاں کے متعلق ان کا اپنا بیان تھا کہ یہاں چالیس پچاس آدمی ان کے ہم خیال ہیں اور دوسرے لوگوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا زیادہ سے زیادہ پندرہ سولہ ہو نگے ۔ یہ ان کی پچاس سالہ کامیابی کا نتیجہ ہے لیکن اس کے مقابلہ میں قادیان میں اڑھائی ہزار کے قریب ایسے لوگ ہیں جو اپنے وطنوں کو چھوڑ کر وہاں آبسے ہیں اور اگر حیفا ہی کو لے لیا جائے تو وہاں ہمارا مبلغ رہتا ہے جس نے ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اسی کے قریب لوگوں کو احمدیت میں داخل کیا ہے ۔ ادھر بہائیوں کی یہ حالت ہے کہ پچاس سال میں پندرہ سولہ سے زیادہ ان کی تعداد نہیں ۔ لیکن اپنی تعداد کو بڑھا کر دکھانے کے متعلق ان کا طریق یہ ہے کہ براؤن جو نیم بہائی تھا۔ مگر بعد میں بہائیت سے بیزار ہو گیا اس نے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ خیر اللہ امریکہ میں پچپن لاکھ بہائی بیان کرتا ہے اور اس قسم کا اعلان تو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ شکاگو میں تیں ہزار بہائی ہیں۔ میں نے جب مولوی محمد الدین صاحب کو وہاں مبلغ بنا کر بھیجا تو انہیں لکھا وہاں سے معلوم کر کے بتائیں کہ بہائیوں کی کتنی تعداد ہے۔ ان کا جواب آیا میں ان کی تلاش میں ہوں جب پتہ ملا اطلاع دوں گا آخر دو تین ماہ کے بعد ان کی چٹھی آئی جس میں انہوں نے لکھا بڑی تلاش اور تجسس سے ایک آدمی ملا ہے اور وہ بھی متردد سا ہے۔ یورپ کے سفر میں میں نے ایک تصویر دیکھی ۔ یہاں بھی جو احمدیت پر بہائیت کو ترجیح دینے والے ہیں ممکن ہے ان کے پاس ہو وہ شکاگو کے مشرق الاذکار کی تصویر ہے۔ مشرق الاذکار یہ اپنی عبادت گاہ کو کہتے ہیں یہ تصویر اتنی عالیشان ہے کہ بڑی بڑی عمارتیں بھی اس کے مقابلہ میں حقیر دکھائی دیتی ہیں اس تصویر سے یہ اثر ڈالا جاتا ہے کہ گویا ان کے ہم خیالوں کی شکاگو میں اتنی کثرت ہو گئی ہے کہ ایسی عالیشان عمارت جس میں باغ اور فوارے نظر آتے ہیں انہوں نے بنائی ہے۔ سکاٹ لینڈ کا ایک لکھ پتی جہاز میں ملا اس کا نوجوان لڑکا بھی ساتھ تھا اس نے کہا کیا ہندوستان کے بہائی دولتمند اور مالدار نہیں ہیں؟ میں نے کہا وہاں تو شاذ و نادر کوئی بہائی ہوگا۔ اس نے کہا ہم نے تو سنا ہے وہاں لاکھوں بہائی ہیں میں نے کہا ہمیں یہ بتایا جاتا ہے امریکہ میں لاکھوں بہائی ہیں۔ کہنے لگا امریکہ میں تو نہیں ہمیں بتایا جاتا ہے ہندوستان میں لاکھوں ہیں ۔ اس طرح معلوم ہوا بہائی