خطبات محمود (جلد 12) — Page 14
خطبات محمود ۱۴ سال ۱۹۲۹ء آپ نے نکاح کے موقع پر جو دو انسانوں اور پھر دو خاندانوں میں بہت بڑا اجتماع ہوتا ہے یہ کلمات پڑھنے کا ارشاد فرمایا جو میں نے خطبہ سے پہلے پڑھے ہیں۔لیکن ان کو نکاح کے موقع پر پڑھنے کے یہ معنے نہیں کہ ان کا نکاح ہی سے تعلق ہے۔بلکہ خطبہ جمعہ میں بھی پڑھنے کا حکم ہے کیونکہ یہ بھی ایک اجتماع ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر اجتماع کے ساتھ یہ کلمات تعلق رکھتے ہیں ان میں ان فتنوں سے بچنے کا گر بتایا گیا ہے جو اجتماع کے موقع پیدا ہوتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب کسی انسان کے نفس کی شرارتیں اس کے سامنے آ جاتی ہیں اور وہ انہیں تکمیل تک پہنچانے کے درپے ہو جاتا ہے تو وہ اسے چھوٹی سے چھوٹی بات کو بڑی اور بڑی سے بڑی کو چھوٹی کر کے دکھاتی ہیں اور اتحا دو اتفاق کی بنی ہوئی صورت کو بگاڑ کے رکھ دیتی ہیں یا بننے والی صورت کو بننے سے پہلے ہی تو ڑ دیتی ہیں۔پس ہمیں ہمیشہ ایسے معاملات میں جہاں ایک سے زیادہ امور کا تعلق ہو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ شرو نفس کا تعلق نہ ہو اور اس کے مَالَهُ وَ مَا عَلَيْهِ کے متعلق پورا پورا غور کر کے مخالف و موافق حالات کو مد نظر رکھ کر رائے قائم کرنی چاہئے اور تعصب کی بناء پر کوئی کام نہ کرنا چاہئے۔باوجود اس رائے کے اظہار کے جو میں نے ایک گذشتہ خطبہ میں ظاہر کی تھی کہ میں نے جماعت کے لئے سالانہ جلسہ کے موقع پر جو پروگرام تجویز کیا تھا اس پر جمعہ کے خطبوں میں تفصیلاً بیان کروں گا میں آج مجبور ہو ا ہوں کہ ایک اور بات کی نسبت اپنی جماعت یا دوسرے اُن لوگوں کو جو میری بات سننا چاہتے ہوں، خواہ مخالفت کی نیت سے یا موافقت کے خیال سے اپنی رائے سنا دوں اور وہ افغانستان کے موجودہ تغیرات ہیں۔پچھلے دنوں جب میں لا ہور گیا تو ہر مجلس میں یہی مسئلہ زیر بحث تھائی کہ ہماری جماعت کے لوگوں کے احساسات میں بھی اس سے ایک تغیر معلوم ہوتا تھا۔بعض بڑوں نے بھی اور طالب علموں نے بھی اس بارے میں مجھ سے دریافت کیا کہ ہماری جماعت کا کیا رویہ ہو۔یہاں آ کر بھی میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، کیا ہونا چاہئے اور کیا کرنا چاہئے۔میں نے لاہور میں بھی اس کا یہی جواب دیا تھا اور میں سمجھتا ہوں یہی حقیقی جواب ہے کہ انسان کو اس امر کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ کچھ کر سکے۔جہاں وہ کچھ کر نہ سکے وہاں توجہ کرنا یا نہ کرنا ایک ہی بات ہے وہاں صرف احساسات کا سوال ہو سکتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔فرض کرو کسی شخص کو تار ملے کہ اس کا کوئی