خطبات محمود (جلد 12) — Page 156
خطبات محمود ۱۵۶ ۲۲ سال ۱۹۲۹ء مومن کیلئے سب سے اہم چیز دل کی پاکیزگی ہے فرموده ۹ - اگست ۱۹۲۹ء بمقام پہلگام - کشمیر ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ہمیں تجربہ سے اور انسان کی بناوٹ اور خلق سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے موثر چیز اس کا دل ہے۔ظاہری اعمال اور افعال جو ہیں وہ بے شک دوسرے انسانوں کی نگاہ میں بہت بڑی حقیقت اور اثر رکھتے ہیں، دوسروں کیلئے نیک نمونہ اور نیک تحریک پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں مگر انسان کے اپنے نزدیک اعمال کا وہ درجہ نہیں جو دل کی پاکیزگی اور طہارت کا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو انسان دل کی پاکیزگی میں ترقی کرتا ہے اس کے نزدیک ظاہری عبادت اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنا دل کی پاکیزگی رکھتی ہے لیکن اگر وہ ظاہری عبادت نہیں کرے گا تو اس کے بیوی بچوں کو اور دوسرے لوگوں کو معلوم نہ ہو سکے گا کہ اس کا خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق ہے اور نہ اس کے نمونہ سے وہ کوئی فائدہ اُٹھا سکیں گے کیونکہ دوسروں کو کسی کا دل نظر نہیں آتا بلکہ وہ ظاہری اعمال دیکھ سکتے ہیں اور جب کوئی کسی کے ظاہری اعمال دیکھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے اور اس کی نقل کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔یہ بات انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے کہ جسے وہ اچھا سمجھتا ہے اس کے افعال اور اعمال کی نقل کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ محکوم قو میں حاکم قوم کی نقلیں کرنے لگ جاتی ہیں۔اب ہندوستان کے حاکم انگریز ہیں۔ہندوستانی لباس میں، کھانے میں گفتگو میں ان کی نقل کرتے ہیں اور جو مال و دولت رکھتے ہیں وہ ان ہی کی طرح مکانات بنواتے ہیں۔اس کی وجہ محض یہ ہے کہ انگریز حاکم ہیں اور محکوم ان کو اپنے سے اعلیٰ