خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 150

خطبات محمود ۱۵۰ سال ۱۹۲۹ء اصل بات یہ ہے کہ شفاعت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے مگر انہی لوگوں کی جو اس کے مستحق ہونگے نہ کہ بے عمل لوگوں کی جو ساری عمر شفاعت کے بھروسے پر گند میں آلودہ رہتے ہیں۔حضرت عائشہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا آپ تو جنت میں اپنے عملوں کی وجہ سے جائیں گے۔آپ نے فرمایا نہیں میں بھی خدا کے فضل سے ہی جنت میں جاؤں گا ہے اور یہ سچی بات ہے کیونکہ اگر ہم نماز پڑھتے ہیں تو خدا کی دی ہوئی طاقتوں سے اگر ہم صدقہ و خیرات کرتے ہیں تو خدا کے دیئے ہوئے مال سے۔غرض ہمارا جو کچھ ہے وہ خدا کا دیا ہوا ہے پھر ہمارے عملوں کی کیا حقیقت ہے جو کچھ ہے خدا ہی کا ہے۔اگر بندہ باوجود اس کے خدا پر احسان جتائے کہ میں نے یہ عمل کیا وہ کیا تو اس کا احسان ایسا ہی ہوگا جیسے اس مہمان کا احسان میزبان پر تھا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ایک شخص کے پاس جا کر مہمان ٹھہرا۔میزبان نے ہر طرح سے اس کی تواضع کی اچھے اچھے کھانے کھلائے اور ہر قسم کے آرام کے سامان مہیا کئے۔جب مہمان صاحب رخصت ہونے لگے تو میزبان معذرت کرنے لگا کہ میں آپ کی اچھی طرح خدمت نہیں کر سکا اس لئے مجھے معاف فرمائیے۔اس پر مہمان صاحب بولے یہ تمہاری معذرت معذرت نہیں بلکہ تم مجھ پر اپنا احسان جتاتے ہومگر تمہارا مجھ پر کوئی احسان نہیں۔میں نے تم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔میزبان بہت شریف آدمی تھا اس نے کہا بھائی میں تو پہلے ہی بوجہ اچھی طرح خدمت بجا نہ لا سکنے کے شرمندہ ہوں اگر آپ مجھے اس احسان سے آگاہ فرمائیں گے تو میں اور بھی آپ کا ممنون ہوں گا۔اس پر مہمان نے کہا کیا یہ کم احسان ہے کہ تمہارے اس کمرے میں جس میں مجھے ٹھہرایا گیا تھا۔ہزاروں روپیہ کا سامان پڑا ہے جب تم میرے لئے کوئی چیز لانے کیلئے اندر چلے جاتے تھے اس وقت اگر میں سامان کو آگ لگا کر چلا جاتا تو تم میرا کیا بگاڑ سکتے تھے۔غرض کہ انسان ہر قسم کی قربانی کر کے بھی خدا تعالیٰ پر کوئی احسان نہیں جتا سکتا۔جان سے بڑھ کر تو کوئی چیز نہیں لیکن اگر یہ بھی خدا تعالیٰ کے رستہ میں قربان کر دی جائے تو بھی خدا تعالیٰ کا حق ادا نہیں ہو سکتا کسی نے کیا ہی سچ کہا ہے: جان دی دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا اصل بات یہ ہے اللہ تعالیٰ ہی کا احسان ہوتا ہے کہ انسان اس کی راہ میں کچھ کر سکتا ہے ورنہ انسان کی تو یہ حالت ہے کہ جو کچھ اسے کرنا چاہئے وہ بھی نہیں کرتا۔مسلمانوں کو دیکھو وہ مسلمان بننے کیلئے کرتے کراتے تو کچھ نہیں مگر مسلمان کے مسلمان ہیں۔مسلمانی میں مجال ہے وہ ذرہ فرق