خطبات محمود (جلد 12) — Page 151
خطبات محمود اها ۱۹۲۹ آ جائے۔اس صورت میں اگر کوئی احسان جتائے تو اس سے بڑھ کے بے وقوفی کیا ہوگی۔اگر ہم جو کچھ کر سکتے ہیں وہ سب کچھ کریں تب بھی احسان جتانے کے قابل نہیں پھر نہ کرنے کی صورت ہیں کس طرح احسان جتا سکتے ہیں۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں مسلمانوں کو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ کہو۔اے خدا! ہمیں صرف نام کے مسلمان نہ بنا بلکہ کام کے مسلمان بنا جن پر تیرے انعام واکرام ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر میں نے عہد کیا تھا۔یا اللہ ! اگر ساری دنیا بھی تیرے مسیح موعود سے منہ موڑ لے تو بھی میں نہ منہ موڑوں گا اور ضرور مسیح موعود کی لائی ہوئی تعلیم کی اشاعت کروں گا۔جب ہم ایک انسان سے ایسا اقرار کر سکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں ایسا اقرار نہیں کر سکتے۔کہ یا اللہ ! اگر تمام دنیا بھی تجھے چھوڑ دے مگر ہم تجھے کبھی نہ چھوڑیں گے۔الغرض نام کے مسلمان ہونا کچھ مفید نہیں۔کوئی زمانہ تھا یہود اور نصاری بوجہ تعلق باللہ معزز تھے، خدا کے پیارے سمجھے جاتے تھے نبی بھی فخر کیا کرتے تھے مگر آج وہی الفاظ گالی بنے ہوئے 1 ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ کام کے نہیں صرف نام کے رہ گئے ہیں۔پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں یہ سکھایا گیا ہے کہ اے خدا! ہمیں کام کے مسلمان بنا ہم نام کے مسلمان نہ ہوں کیونکہ نام کی کچھ حقیقت نہیں اصل چیز کام ہے۔اے اللہ ! تو طالبین ہدایت میں کام کرنے کی قوت پیدا کر دے۔وہ بندوں سے محبت کریں اور بنی نوع کی ہمدردی ان کے دلوں میں راسخ ہو جائے۔آمین۔( الفضل ۳۔اگست ۱۹۲۹ء ) كتاب التجديد الصريح لاحاديث الجامع الصحيح للحسين ابن المبارك الزبيدي جلد ۲ صفحه ۱۱۸ مطبوعه مصر ۱۳۲۳ھ 2 الفاتحة: ٦ سلم الفاتحة : - حبه ه الشعراء: ۵ النساء : ١٤٦ بخارى كتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل