خطبات محمود (جلد 12) — Page 145
خطبات محمود ۲۰ سال ۱۹۲۹ء سورۃ فاتحہ کے حقائق و معارف فرموده ۱۹۔ جولائی ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر ۔ کشمیر ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : پر مشتمل ہے اور ! ں ہے اور بظاہر ایسا سورة فاتحہ کو ایک نہایت ہی مختصر سورة ۔ مر سورۃ ہے جو صرف سات آیتوں پر معلوم ہوتا ہے کہ اس میں عام مطالب بیان کئے گئے ہیں اور خاص مضامین کو نظر انداز کر دیا گیا ہے لیکن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے سمجھ عطا فرمائی ہے، جنہیں معارف کے پہچاننے کی طاقت ؟ اقت بخشی ہے اور جنہیں باریکیوں کو دیکھنے کی نظر دی ہے وہ جانتے ہیں کہ ان سادہ اور سات آیتوں میں عام و خاص سب مضامین درج کر دیئے گئے ہیں اس واسطے قرآن کریم کو سورۃ فاتحہ کے مقابلہ میں قرآن عظیم قرار دیا ہے۔ اس طرح سورۃ فاتحہ قرآن صغیر ٹھہری اور قرآن کے سارے مطالب کی حامل ہوئی ۔ جیسے انسان عموما پانچ ساڑھے پانچ چھ فٹ لمبا ہوتا ہے مگر جب کیمرے کے ذریعہ تصویر لی جاتی ہے تو چھوٹی سی تصویر میں سب کچھ آ جاتا ہے حتی کہ مسامات تک تصویر میں آ جاتے ہیں مگر یہ آتشی شیشہ کے اور بغیر غور سے دیکھنے کے نظر نہیں آتے ۔ اسی طرح جن لوگوں کو خدا تعالی نے بار یک حقائق و معارف دیکھنے کی طاقت دی ہے وہ سورۃ فاتحہ میں تمام قرآن کے معارف دیکھ سکتے ہیں ۔ ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ اس لئے کہ سارے قرآن کو انسان جلدی نہیں پڑھ سکتا جلد سے جلد ایک دن میں ختم کیا جا سکتا ہے لیکن اس طرح مطالب کی طرف توجہ نہیں کی جاسکتی اس لئے احادیث میں ایک دن میں قرآن کریم ختم کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ۔ کم از کم تین دن میں یا XXXXXXXXXXXXXX