خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 107

خطبات محمود ۱۰۷ سال ۱۹۲۹ء صلى الله چھپا دیا جاتا ہے۔ یہی حال آج یورپ کا ہے۔ ان میں تعصب ہے اور اس میں وہ افریقہ کے جنگلیوں یا افغانستان کے پٹھانوں سے کسی طرح بھی کم نہیں بلکہ ممکن ہے اپنے بڑھے ہوئے جذبات کے باعث پہلے سے بھی زیادہ تعصب ان میں پیدا ہو گیا ہو لیکن وہ چونکہ تعلیم میں بھی بڑھ گئے ہیں اس لئے وہ اسے عام طور پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کونین پر میٹھا چڑھا دیا جائے ۔ لوگ سمجھتے ہیں یہ میٹھا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ کونین ہوتی ہے اس تمام تعصب کی جڑ مذہبی اختلاف ہے۔ پادر ہے۔ پادریوں نے کتابیں لکھ کر یورپ کو اسلام سے ایسا بد با ابدظن کر رکھا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کو ( نَعُوذُ بِاللهِ ( ایک نہایت بھیانک ہستی ہستی سمجھتے ہیں۔ عیسائی مذہب سے صاف طور پر ثابت ہے کہ عورت کی روح نہیں لیکن پادری کئی سو سال انہیں یہی بتاتے چلے آ رہے ہیں کہ اسلام کے نزدیک عورت میں روح نہیں ہوتی حالانکہ قرآن میں صاف طور پر موجود ہے کہ عورت بھی ایسی ہی ثواب کی مستحق ہے جیسا مرد ۔ سینکڑوں عیسائی اب بھی ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ مسلمان کا بت بنا کر اس کی پرستش کرتے تے ہیں اور جب اسلامی عبادت کا عبادت کا سوال ہوگا فوراً ان کے ذہن میں یہی عبادت آجائے گی بلکہ میں نے بڑے بڑے مصنفوں کی کتابوں میں یہی بات لکھی دیکھی ہے اور اسی تعصب کی وجہ سے عیسائی مسلمانوں سے الگ ہیں اور ان سے نہیں ملتے۔ اسی طرح اور قوموں میں بھی سخت اختلاف ہے۔ ہندو پارسیوں اور چینیوں کو گندے اور نجس سمجھتے ہیں اور وہ ہندوؤں کو۔ غرضیکہ ہر قوم دوسری سے متنفر اور بدظن ہے۔ صلى الله () علی ان حالات میں ایسے جلسے جن کا مقصد یہ ہو کہ مختلف بانیان مذاہب کی خوبیاں لوگوں کو معلوم ہوں اتحاد و اتفاق کا موجب ہونگے اور اگر یہ تحریک دنیا میں کامیاب ہو جائے تو امن قائم ہو جائے اور تعصب دور ہو ہو جائے جائے ۔ ۔ ہم چونکہ رسول کریم ﷺ کو کو ما مانتے ہیں اس لئے ہمارا یہی کام ہے کہ آپ کی شان کے اظہار کے لئے جلسوں کا انتظام کریں لیکن اگر ہند و حضرت کرشن، رام اور بدھ کی لائف دنیا کے آگے پیش کرنے کے لئے جلسوں کا انتظام کریں تو ہمیں ان میں شمولیت سے انکار نہیں ۔ اور میں سمجھتا ہوں اگر مختلف مقامات پر ایسے جلسے منعقد ہوتے رہیں تو دنیا میں بہت جلد امن قائم ہو جائے ۔ لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ یہ جلسے محض رسول کریم ﷺ کے لئے ہی نہیں ، ہم چونکہ انہیں مانتے ہیں اس لئے انہیں ہی پیش کرتے ہیں ۔ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اپنے اپنے بزرگوں کے لئے ایسا انتظام کریں ہم بھی ان میں ضرور شامل ہونگے ۔ بشرطیکہ ان کا XXXXXXXXXXXX