خطبات محمود (جلد 12) — Page 8
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء ہوں ۔ اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی اعلان کیا تھا اگر ثالث یہ فیصلہ کر دے کہ میری طرف سے زیادتی ہوئی نہ کہ مولوی محمد علی صاحب حب کی طرف سے تو میں شرح صدر سے معافی ما۔ معافی مانگنے کے لئے تیار ۔ کیونکہ اپنی غلطی کا کا اعتراف اعتراف: بہت بڑی نیکی کا کام ہے اور اسی اسی طرح میں اپنی جماعت کا بھی ذمہ دار ہوں ۔ علی هذا القياس مولوی محمد علی صاحب کو بھی اس کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ اگر ان کے خلاف فیصلہ ہو تو معافی مانگیں۔ میں تو خلیفہ ہوں اور ان اور ان کی پوزیشن صرف ایک پریذیڈنٹ کی ہے۔ اگر میں خلیفہ ہو کر اپنے خلاف فیصلہ کو خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو ماننے کے لئے تیار ہوں کیونکہ یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں تو انہیں بھی اسے تسلیم کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور اگر ثالث فیصلہ کرے کہ انہوں نے زیادتی کی ہے تو اپنی غلطی کا اعتراف کر کے عَلَى الإِعْلان معافی مانگنی چاہئے ۔ ا میں نے جو شرائط پیش کی میرا خیال ہے کہ اگر ایک دفعہ اس طرح صحیح فیصلہ ہو جائے میرا یہ مطلب نہیں کہ ثالث بد دیانتی کرے گا بلکہ صرف یہ مقصد ہے کہ اُس سے بھی غلطی کا امکان ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ اگر صحیح فیصلہ ہو جائے تو یہ بات آئندہ اتحاد کے لئے بہت مفید ہوگی اور کوئی تعجب نہیں کہ آئندہ مذہبی اتحاد کی بھی کوئی صورت پیدا ہو جائے کیونکہ اپنی نعطی کا اعتراف کرنے سے انسان کے لئے راستی اور صداقت کو تسلیم کر لینا آسان تر ہو جاتا ہے۔ اس فیصلہ کے لئے میں تھیں وہ یہ تھیں کہ جس تاریخ سے معاہدہ کا اعلان ہوا اُس سے لیکر اس تاریخ تک کہ میں نے یہ دیکھ کر کہ فریق ثانی نے معاہدہ کا کوئی احترام نہیں کیا اس کی منسوخی کا اعلان کر دیا۔ اس عرصہ کے تمام حالات کا مطالعہ کر کے ثالث کو یہ دیکھنا ہو گا کہ اس عرصہ میں شائع شدہ تحریروں یا تقریروں میں میری طرف سے زیادتی ہوئی یا مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے ۔ اگر وہ یہ فیصلہ کرے کہ زیادتی میری طرف سے ہوئی تو میں اپنی غلطی کا اعتراف کروں گا اور ان لوگوں کو جو تکلیف پہنچی اس کے لئے ان سے معافی مانگوں گا ۔ اسی طرح اگر مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے زیادتی ثابت ہو تو وہ معافی مانگیں اسی طرح اخبارات فیصلہ ہو کہ کس نے زیادتی کی اگر ثابت ہو۔ ر ثابت ہو جائے کہ الفضل نے اس معابد و کوتوڑا تو الفضل معافی کا اعلان کرے اور اگر یہ ثابت ہو کہ پیغام صلح نے اس کی خلاف ورزی کی تو وہ معافی مانگے اور اگر کسی فرد کی طرف سے معاہدہ کا توڑ نا ثابت ہو تو اس سے معافی کا اعلان کرایا جائے ۔ در حقیقت کسی انسان کا دل دُکھانا ایک بہت بڑا جرم ہے اور کے متعلق فیصلہ ہو کہ !