خطبات محمود (جلد 12) — Page 97
خطبات محمود ۹۷ سال ۱۹۲۹ء پیٹھ ٹھونکا کرتی تھی۔اگر یہ ایسا نہ کرتی تو عادی چور ہو کر آج میں اس نتیجہ کو نہ پہنچتا۔اسی طرح مجرموں کی خواہ انہوں نے ہتک انبیاء کا جرم کیا ہو خواہ قتل کا جو لیڈر پیٹھ ٹھونکتے ہیں وہ خود مجرم ہیں۔قاتل ڈاکو اور وہ خبیث الفطرت اور گندے لوگ جو انبیاء کو گالیاں دیتے ہیں ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کی تعریف کی جائے۔ان کی قوم اگر اپنے اندر دینداری، تقوی اور اخلاق رکھنے کی مدعی ہے تو اس کا فرض ہے کہ ایسے افعال کی پورے زور کے ساتھ مذمت کرے۔اسی طرح اس قوم کا جس کے جو شیلے آدمی قتل کرتے ہیں خواہ انبیاء کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار براءت کرے۔انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی سے نہیں ہو سکتی۔وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگے پڑیں، جس کے بچانے کے لئے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے سخت نادانی ہے۔کیا محمد رسول اللہ ہے کی عزت اتنی ہی ہے کہ ایک شخص کے خون سے اس کی ہتک دھوئی جا سکے؟ بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی بہتک کی سزا قتل ہے۔میں کہتا ہوں تاریخ سے کوئی ایک مثال ہی ایسی پیش کی جائے کہ رسول کریم عملے کے زمانہ میں کسی ایک انسان کو بھی محض آپ کو بُرا کہنے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو اور اُس قتل میں کسی پولیٹیکل مُجرم کا دخل نہ ہو۔کوئی ثابت کرے کہ محض اس جرم میں کسی کو قتل کیا گیا۔ہاں اگر کسی کے متعلق یہ شبہ ہوا کہ وہ غیر قوموں کو مسلمانوں پر چڑھا لائے گا اور سازشیں کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گا تو یہ اور بات ہے۔صرف تو ہین رسول کے جرم میں کبھی کوئی ایک شخص بھی قتل نہیں کیا گیا۔اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو عبد اللہ بن ابی بن سلول کو کیوں زندہ چھوڑ دیا جاتا حالانکہ اس نے عَلَى الْإِعْلان کہا تھا کہ لخرِ جَنَّ الاعزمنها الهع - میں جو سب سے زیادہ معزز ہوں ( نَعُوذُ بِاللهِ) سب سے زیادہ ذلیل یعنی رسول کریم ﷺ کو نکال دوں گا۔محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس ایسی باتوں کی اطلاع بھی پہنچ جاتی تھی۔پھر صحابہ نے یہ بھی کہا کہ اس کے ساتھیوں میں سے بعض کو قتل کر دیا جائے لیکن رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔نہیں لوگ کیا کہیں گے کہ محمد نے اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیا۔اگر قتل جائز ہوتا تو وہ منافق جو آخری وقت تک مسلمانوں میں موجود رہے کس طرح زندہ رہ سکتے تھے۔قرآن کریم میں صاف طور پر بیان ہے کہ منافق لوگ ہتک و تضحیک کرتے اور ٹھٹول بازی سے