خطبات محمود (جلد 12) — Page 551
خطبات محمود ۵۵۱ سال ۱۹۳۰ء ایسا شخص ڈپٹی کمشنر تھا جو جب یہاں آیا تو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہا تھا کہ اسے سزا کیوں نہیں دی جاتی مگر جب پادریوں کی طرف سے آپ پر قتل کا مقدمہ کھڑا کیا گیا تو مسٹر ڈگلس کے ساتھ کام کرنے والے شخص نے سنایا کہ وہ جب گورداسپور سے اس مقدمہ کی تاریخ دیگر بٹالہ میں آیا تو سخت گھبرایا ہوا تھا میں نے اسے کہا صاحب ویٹنگ روم میں کرسیاں وغیرہ موجود ہیں آپ اندر آ کر بیٹھیں وہ بیٹھا مگر پھر باہر نکل آیا۔میں نے دریافت کیا کہ کیا تکلیف ہے تو اس نے کہا مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں مرنے لگا ہوں اُس کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔جس شخص نے یہ واقعہ سنایا وہ احمدی نہیں۔اُس نے پھر دریافت کیا تو مسٹر ڈگلس نے کہا جہاں تک قانونی نکات کا تعلق ہے مرزا صاحب پر جرم ثابت ہے لیکن جس وقت سے وہ میرے سامنے پیش ہوئے ہیں میں جس طرف منہ کرتا ہوں وہ سامنے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں میں مجرم نہیں اور یہ حالت ایسی شدت سے مجھ پر وارد ہو گئی ہے کہ محسوس ہوتا ہے میں مر جاؤں گا یا مجھے جنون ہو جائے گا۔اس شخص نے سنایا میں نے اسے کہا اندر بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں اور کپتان پولیس کو وہاں بلا لیا اور اس سے ساری کیفیت بیان کی۔اُس نے کہا اقراری ملزم کو پادریوں سے لیکر میرے حوالہ کر دو پھر میں اس سے سب کچھ معلوم کرلوں گا چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔سپرنٹنڈنٹ نے جب اس سے پوچھا کہ کیا واقعہ ہے تو پہلے تو اُس نے کہا کہ یہی کچی بات ہے جو میں کہتا ہوں مگر جب زیادہ اصرار سے پوچھا گیا تو وہ پاؤں پر گر گیا اور اُس نے کہا مجھے ڈر لگتا ہے اگر میں نے اصلیت بیان کر تو پادری مجھے ماردیں گے۔سپرنٹنڈنٹ نے اسے کہا نہیں اب میں تمہیں پادریوں کے پاس ہرگز نہ جانے دوں گا۔پھر اُس نے بتایا کہ میں نے ایک چیز مشن سے پرائی تھی اس پر پادریوں نے مجھے کہا کہ یا تو جو کچھ ہم کہتے ہیں اس طرح کرو وگرنہ قید کرا دیا جائے گا اس وجہ سے میں نے ڈر کر جھوٹ بول دیا ہے۔مسٹر ڈگلس اب تک یہ واقعہ سنایا کرتے ہیں وہ بعد میں چیف کمشنر ہو گئے اور ولایت میں مجھ سے ملنے بھی آئے تھے اور خود اس واقعہ کا انہوں نے ذکر کیا بلکہ کہا کہ ایک دفعہ ہوشیار پور کے ڈپٹی کمشنر مجھے یہاں ملے اور کہا۔کہ تم پچیس چھبیس سال ہندوستان میں رہے ہو وہاں کا کوئی واقعہ سناؤ میں نے یہی واقعہ ان سے بیان کیا۔پس اللہ تعالیٰ جب کسی کام میں دخل دیتا ہے تو بندے اس کے منشاء کو پورا ہونے سے نہیں روک سکتے۔اس کا ہم انسانوں کے بموں سے بہت زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔دیکھو انفلوئنزا کی