خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 552

خطبات محمود ۵۵۲ سال ۱۹۳۰ء وبا ء شروع ہوئی تو ایک مہینہ کے اندر اندر دو کروڑ انسان مر گئے۔پانچ سال کی خوفناک جنگ میں اس تعداد سے جو اس وباء سے ہلاک ہو گئی ہندوستان کے لوگوں کی ۱۴ تعداد بھی ہلاک نہ ہوئی تھی بلکہ زخمی بھی نہ ہوئی تھی۔تو اگر اللہ تعالیٰ پر توکل کیا جائے تو وہ خود مددکرتا ہے۔مگر نا جائز ذرائع کا " استعمال خود اپنے ہاتھوں اپنی ناک کاٹنے کے مترادف ہے ” پرائے شکون میں اپنی ناک کٹانا اسی کو کہتے ہیں۔اگر ایک طرف ایک انگریز مر جائے اور دوسری طرف ہماری قوم کے اخلاق تباہ ہوں تو بتاؤ کون نقصان میں رہا؟ کیا انگریز اس سے ڈر جائیں گے؟ وہ سارے صرف دو لاکھ کی تعداد میں یہاں حکومت کر رہے ہیں اور اس رفتار سے کئی ہزار سال میں ایک لاکھ کی باری آئے گی پھر کیا یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہر سال چند ایک آدمی بھی مہیا نہیں کر سکتے۔یہ جاہلا نہ خیال ہے چند آدمیوں کے قتل ہونے سے کون ڈرسکتا ہے۔ایک انگریز افسر مر جاتا ہے تو اس نے آخر ایک دن مرنا ہی تھا مگر اس کی موت ہماری قومی روح کو کچل دے گی۔پس جماعت کو چاہئے کہ جذبہ حب الوطنی اور خیر خواہی کی رو سے بھی اور امن قائم رکھنے کے خیال کے ماتحت بھی ایسے لوگوں کو سمجھائیں اور اگر پتہ لگ جائے تو انہیں اس تباہی سے بچانے کی کوشش کریں۔آخر وہ بھی ہمارے بھائی ہیں اور اگر باز نہ آئیں تو ان کا مقابلہ کیا جائے کیونکہ اگر ہمارا ملکی بھائی تباہ ہوتا ہے تو ہر طریق سے اسے بچانا ہمارا فرض ہے ہمسایہ کے گھر کو اگر آگ لگے تو ہمیں بھی اس سے نقصان کا احتمال ہے۔پس جذ بہ حب الوطنی کے لحاظ سے بھی ہمارا فرض ہے کہ اس صورت کو بدلنے کی کوشش کریں۔یہ قطعاً خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمیں کیا اس سے انگریزوں کا نقصان کم ہے اور ہمارا زیادہ بلکہ سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہی ہے کیونکہ ہمارے سوا کوئی اور قوم مذہب کو قائم کرنے کے لئے کھڑی نہیں ہوئی۔اور جتنا انسانیت کو نقصان پہنچے گا اتنا ہی ہمارے لئے زیادہ مشکلات پیدا ہوں گی۔ہمیں دعا ئیں بھی کرنی چاہئیں اور اگر علم ہو تو پورے طور پر ایسے لوگوں کو سمجھانا بھی چاہئے کہ بداخلاقی کا خیال چھوڑ دو۔اللہ تعالیٰ ان بھائیوں کو سمجھ عطا کرے کہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق چل سکیں اور اخلاق کو تباہ کرنے والے نہ ہوں۔ہندوستان کو آزادی تو حاصل ہو کر ہی رہے گی کیونکہ خدا تعالیٰ کے نبی جب آتے ہیں تو وہ برکت ساتھ لاتے ہیں مگر جلد بازی سے ہمیں