خطبات محمود (جلد 12) — Page 512
خطبات محمود ۵:۲ سال ۱۹۳۰ء نفس کو دیانت وصداقت سے ٹولے تو وہ محسوس کرے گا کہ وہ کام جو جماعت سے ظاہر ہو رہا ہے اس کے کرنے کی اہلیت ہم میں موجود نہیں پھر آخر کہاں سے وہ چیز آ گئی۔جب ہم میں سے کوئی اہل نہیں اور ہم یہ کام کر نہیں سکتے اور پھر کام ہو بھی جاتا ہے تو سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ خود ہی کرتا ہے اور کیا کہا جا سکتا ہے حکام کی تقریروں کو دیکھو وہ بھی جماعت کی اہمیت کو محسوس کر رہے ہیں۔موجودہ گورنر پنجاب نے ہی تھوڑا عرصہ ہوا ایک تقریر میں بیان کیا کہ تعلیمی لحاظ سے یہ جماعت نمونہ ہے۔مگر ہم میں سے ہر ایک دیکھے کہ وہ دنیوی طور پر کس قدر تعلیم پا چکا ہے پھر کیا چیز ہے جو ہمیں تعلیم یافتہ قرار دیتی ہے۔یقیناً یہ وہی روشنی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے حاصل ہوئی وگر نہ درسی تعلیم کے لحاظ سے ہم دوسروں سے زیادہ نہیں لیکن ذہنی تعلیم ہم نے ایسی درسگاہ میں حاصل کی ہے جہاں دوسروں کو موقع نہیں ملا۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ان پڑھ احمدی | بھی کلام کرتا ہے تو سننے والے پر یہی اثر پڑتا ہے کہ یہ بہت تعلیم یافتہ ہے۔وہی باتیں جو ہم دوسروں کے سامنے بیان کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ شاید سمجھ نہ سکیں بلا تکلف احمدی مجالس میں بیان کر جاتے ہیں۔ان میں شریعت کے معارف قرآنی حقائق، علم النفس کے مسائل، فلسفہ منطق، سب قسم کی باتیں ہوتی ہیں مگر جماعت کے زمیندار اصحاب بھی ایسے ذوق سے سنتے ہیں گو یا میٹھے پانی کا گھونٹ ہے جو اُن کے حلق سے اُتر رہا ہے۔علم النفس اور فلسفہ وغیرہ انہوں نے کہاں سے سیکھا۔انہوں نے کسی مدرسہ میں تو یہ علوم نہ کبھی سیکھے اور نہ سیکھنے کی کوشش کی صرف یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وابستگی کی وجہ سے ان کے دل سے ہی وہ چشمہ پھوٹ نکلا جو الہی سلسلوں میں ہمیشہ پھوٹا کرتا ہے۔پس یہ جلسہ کا دن ایک نشان کا دن ہے اس دن ہر طبقہ کے لوگ آتے ہیں، ہر قسم کی باتیں سنتے ہیں اور بہت لطف اُٹھاتے ہیں۔جب لوگ دوران تقریر میں اُٹھتے ہیں اور ہم اُن کے متعلق پوچھتے ہیں تو وہ لوگ جو ظاہری تعلیم سے معری ہوتے ہیں کس سچائی اور بھولے پن سے جواب دیتے ہیں کہ یہ اُٹھنے والے جو غیر احمدی ہیں جو ہمارے ساتھ آئے ہوئے ہیں اور جو ان باتوں کو سمجھ نہیں سکتے حالانکہ وہ غیر احمدی تعلیم میں ان سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔اس وقت انہیں یہ خیال بھی نہیں آتا کہ تعلیم میں تو ہم کم ہیں اور وہ زیادہ اور کہہ دیتے ہیں چونکہ لوگ تقریریں سمجھ