خطبات محمود (جلد 12) — Page 492
خطبات محمود ۴۹۴ سال ۱۹۳۰ء تعجب ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ مجلس شوری کے موقع پر تو بہت زور شور سے یہ بات پیش کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو اسلامی شعائر کا پابند ہونا چاہئے مگر حالت یہ ہے کہ ان کے اپنے گھروں میں یہ بات نہیں۔کئی سال سے اس بات پر زور دیا جا رہا تھا کہ احمد یہ ہوٹل لاہور میں رہنے والوں کے لئے ڈاڑھی کا رکھنا ضروری قرار دیا جانا چاہئے اور وہاں رہنے والوں کو مجبور کرنا چاہئے کہ وہ ڈاڑھی رکھیں لیکن جب اس پر عمل درآمد شروع کیا گیا تو میں یہ معلوم کر کے حیران ہو گیا ہوں کہ وہ لوگ جن کے وہاں ڈاڑھی رکھنے کے متعلق وہ الفاظ جو وہ مجلس شوریٰ میں اپنے منہ سے نکالتے رہے ہیں ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں اپنے بچوں کو وہاں سے نکال کر لے گئے۔ایک دفعہ ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ڈاڑھی میں اسلام ہے۔میں نے کہا ہرگز نہیں مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں یقیناً اسلام ہے۔مجھے افسوس ہے کہ جن لوگوں نے مجلس شوری میں اس بات پر زور دیا تھا عملاً وہ خود ہی اپنے فیصلہ سے کھسک گئے۔مجھے ایک شخص نے یہ بھی کہا کہ آپ لاہور کے ہوٹل کو لئے پھرتے ہیں حالانکہ یہاں بھی بعض لڑکے ڈاڑھی نہیں رکھتے اور جو یہاں نہیں رکھتے وہ وہاں کیا رکھیں گے۔مجھے تو اس کے متعلق علم نہیں اور میرے ذہن میں تو ایسا لڑکا کوئی نہیں لیکن اگر کوئی ہو تو یہ بھی بہت افسوس کی بات ہے۔یہاں ڈاڑھی رکھنے کی عادت ڈالنی چاہئے کیونکہ اپنی سوسائٹی میں ایک عادت ڈالنا بہت آسان ہوتا ہے مگر دوسری سوسائٹی میں جا کر مشکل ہو جاتا ہے۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض لڑکے جب جوانی کے قریب آتے ہیں تو ان کی شکل دیکھ کر خیال ہوتا ہے کہ شاید ڈاڑھی منڈھی ہوئی ہے۔کچھ عرصہ ہوا۔میں نے ایک لڑکے کو دیکھ کر یہی خیال کیا اور جب ہیڈ ماسٹر سے کہا گیا کہ لڑکوں کو ڈاڑھی رکھنے کی تاکید کریں تو انہوں نے کہا مجھے تو ایسا کوئی لڑکا معلوم نہیں جو ڈاڑھی منڈا تا ہو۔میں نے اسی لڑکے کا نام بتایا اور انہوں نے جب تحقیقات کی تو معلوم ہوا کہ اسے ابھی ڈاڑھی آئی ہی نہیں۔تو ایسا بھی ہو جاتا ہے اور ممکن ہے میرے پاس شکایت کرنے والے کو بھی ایسا ہی دھوکا لگا ہو جیسا مجھے لگ گیا تھا لیکن اگر یہ صحیح ہے تو ہیڈ ماسٹروں اور اساتذہ کا فرض ہے کہ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ طالب علم شعائر اسلامی کی پابندی کریں کیونکہ اس سے یک جہتی پیدا ہوتی ہے۔