خطبات محمود (جلد 12) — Page 480
خطبات محمود ۴۸۰ سال ۱۹۳۰ء ہر ایک کے لئے اپنے عقائد پیش کرنے کا دروازہ کھلا ہے۔ہم اہلحدیثوں سے اتحاد کے لئے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سچا سمجھیں تب اُن سے مشتر کہ امور میں متحد ہو سکتے ہیں۔اسی طرح اہلحدیثوں کو یہ مطالبہ نہیں کرنا چاہئے کہ جب تک حدیثوں کو سب پر مقدم نہ کیا جائے گا اتحاد نہیں ہو سکتا۔اسی طرح حنفیوں کو یہ مطالبہ نہیں کرنا چاہئے کہ اہل حدیث سینہ پر ہاتھ نہ باندھیں۔اسی طرح اہلحدیث یہ نہ کہیں کہ حنفی رفع یدین کریں تب اتحاد ہو سکتا ہے۔اگر سیاسی اور ملکی صلح اور اتحاد کے لئے یہ شرطیں ضروری ہوں تو بتا ؤ ا سلام کا کیا باقی رہ جائے گا۔پہ صلح نہیں ہوگی بلکہ مذہب کو بگاڑنے والی بات ہوگی۔ہر ایک کا حق ہے جو چاہے عقیدہ رکھے اور جہاں چاہے بیان کر ے۔وہ لوگ جو ہمارے ساتھ ملکی اتحاد کرنے کے لئے تیار ہیں اور وہ اخبار جو اس مقصد کے لئے ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں وہ اگر ہمارے خلاف ایسے مضامین شائع نہ کریں جس میں گالی گلوچ ہو تضحیک ہو ہتک ہو بلکہ وہ علمی طور پر حیات صحیح ثابت کریں تو ہم اس پر ذرہ بھی بُرا نہیں منائیں گے۔اسی طرح اگر وہ اس قسم کے مضامین شائع کریں کہ نبوت بند ہو گئی ہے رسول کریم ہے کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا تو ہمیں اس پر کوئی افسوس نہیں ہو گا بشرطیکہ وہ گالی گلوچ سے کام نہ لیں۔ان کا حق ہے کہ اپنے عقائد بیان کریں اور ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے عقائد پیش کریں۔پچھلے دنوں ایک دوست نے بتایا جب یہ افواہ مشہور ہوئی (ابھی یہ افواہ ہی ہے معلوم نہیں پوری ہوتی ہے یا نہیں ) کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب گول میز کانفرنس میں نامزد کئے جائیں گے تو اس کے خلاف امرتسر میں جلسہ کیا گیا اور کہا گیا کہ وہ مسلمانوں کے نمائندہ نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ احمدی ہیں۔یہ سُن کر ایک شخص میرے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا دیکھو مسلمانوں کا ایک احمدی نمائندہ منتخب ہونے والا ہے۔وہ شخص جو دوڑتا ہوا آیا تھا وہابی تھا۔میں نے اُسے کہا تم اپنی فکر کرنا کوئی حنفی مسلمانوں کا نمائندہ ہو کر نہ چلا جائے وہاں رفع یدین اور دوسرے اختلافی مسائل کا فیصلہ ہونا ہے اگر کوئی حنفی چلا گیا تو تم مارے جاؤ گے۔وہاں تو سیاسی مسائل کا تصفیہ ہو گا وہاں مسلمانوں کے اختلافی مسائل کا کیا دخل کہ کہا جائے کہ احمدی نہ جائے یا اہلحدیث نہ جائے یا حنفی نہ جائے۔دیکھو ایک ہندو جب کسی مسلمان نام والے کو دفتر سے نکالتا ہے تو یہ نہیں پوچھتا کہ تم حیات مسیح کے قائل ہو یا وفات مسیح کئے تمہارے نزدیک اب کوئی نبی آ سکتا ہے یا نہیں وہ صرف یہ