خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 460

خطبات محمود ۴۶۰ سال ۱۹۳۰ء لکھ دی ہیں جو درحقیقت غلط ہیں۔اسی طرح اس نے یونہی بعض اعتراضات کر دیئے ہیں حالانکہ اعتراضات کی گنجائش نہیں تھی۔غرض انسان اپنے ذاتی خیالات کے ماتحت معنی کر کے دھوکا کھاتا ہے۔قرآن کریم میں جو اللہ تعالیٰ نے متشابہات کا ذکر فرمایا ہے اس کے کئی معانی ہیں جن میں سے ایک ذومعانی کلام کے ہیں۔ایسے کلام کے معنی کرتے وقت جس کے دل میں گند ہوتا ہے وہ بُرے معنی لیتا ہے اور جس کے دل میں نیکی ہوتی ہے وہ اچھے معنی لیتا ہے۔ہمارے سلسلہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتابوں کے بعض مقامات کے معنی بعض لوگ ایسے کرتے ہیں جو غلط اور سلسلہ کو بد نام کرنے والے ہوتے ہیں۔اسی طرح بعض باتیں روایات کی صورت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کی جاتی ہیں جو تحقیق کے بغیر قابل تسلیم نہیں ہوتیں۔ایسے معنوں یا ایسی باتوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کرنا سخت غلطی ہے۔حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اگر تمہیں کوئی ایسی بات پہنچے جسے میری طرف منسوب کیا گیا ہو اور وہ میری تعلیمات کی رو سے تمہیں نا درست نظر آئے تو تم اسے میری طرف سے نہ سمجھو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کی جانے والی باتوں کو بھی اسی اصل کے ماتحت دیکھنا چاہئے اور ان کے جو معنی آپ کی تعلیم کے خلاف ہوں انہیں درست نہیں سمجھنا چاہئے۔ہاں جہاں تک ممکن ہو ان کی کوئی ایسی تاویل کرنی چاہئے جو آپ کی تعلیم کے مطابق ہو اور جس سے وہ بات آپ کی تعلیم کے مخالف نہ رہے۔اور اگر کوئی ایسی تاویل نہ ہو سکے تو ایسے معنوں کو اور ایسی روایت کو آپ کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسے رد کر دینا چاہئے۔کچھ عرصہ ہوا احادیث کے طرز پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے متعلق آپ کے صحابہ کی روایات کی ایک کتاب چھپی تھی۔جس میں ایک روایت یہ لکھی تھی کہ آپ نے ایک دفعہ چنے کے دانوں پر کچھ پڑھ کر اور پھونک کر انہیں کنویں میں پھینکنے کا ارشاد فرمایا۔اس کے متعلق مجھے بعض لوگوں کی طرف سے اعتراضات پہنچے۔میں نے اُسی وقت کہا کہ اس میں راوی کو یقینا غلطی لگی ہے۔چنانچہ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ جماعت کے کسی آدمی نے اس قسم کی خواب دیکھی تھی جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اسے پورا کر دیا جائے۔اسی طرح ایک دفعہ میں نے ایک تقریر میں بیان کیا کہ قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ ***