خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 454

خطبات محمود ۴۵۴ سال کا لفظ ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ ہم نے مدینہ کے مکانوں کی نسبت حکم دیا تھا کہ وہ اُٹھائے جائیں لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ متعلق ہو گئے تھے حالانکہ فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ۔کے الفاظ صاف موجود ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ اس لفظ کی وجہ سے طور تو اُٹھایا جائے لیکن مدینہ کے مکانوں کے متعلق یہ معنے نہ کئے جائیں۔بات یہ ہے کہ رفع کے معنے ضروری طور پر او پر اٹھانا ہی نہیں بلکہ یہ محاورہ ہے جو پاس ہی اونچی چیز نظر آنے کیلئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ جب انسان دور ہو تو چیز نیچی نظر آتی ہے لیکن قریب پہنچنے پر اونچی دکھائی دیتی ہے۔پس یہ عربی کا محاورہ ہے جس کے معنے اونچی چیز کے نیچے جانے کے ہیں اور قرآن کریم اور بخاری میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔اس قسم کی باتیں رخنہ ڈالنے والی ہوتی ہیں۔اور اس تعلیم اور روح کے سراسر خلاف ہیں جس کے ذریعہ سے ہم نے باطل کا سر کچلنا ہے۔اس لئے یہ قطعا برداشت نہیں کی جاسکتیں کہ ایسی باتیں جماعت کے اندر داخل کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ روح کو مٹا دیا جائے۔بھلا سوچو تو سہی طور سر پر رکھ دینے کا واقعہ بیان کرنے سے کسی کے ایمان میں کیا اضافہ ہو سکتا ہے۔ہماری جماعت میں خدا کے فضل سے سینکڑوں ہزاروں آدمی ایسے موجود ہیں جن سے خدا تعالیٰ نے کلام کیا۔پرانے واقعات خواہ کیسے ہوں تازہ الہام کے مقابلہ میں کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ واقعی پہاڑ اُٹھا کر رکھ دیا گیا تھا تو کیا وجہ ہے کہ ہندوؤں کی ان باتوں کا انکار کیا جائے جو وہ اپنے بزرگوں کی کرامات کے طور پر بیان کیا کرتے ہیں۔خصوصا اس صورت میں کہ جب ہم قرآن کریم کی رو سے مانتے ہیں کہ ان کے ہاں بھی انبیاء گزرے ہیں۔ان کے ہاں مشہور ہے کہ نیل کنٹھ جو ایک چھوٹا سا پرندہ ہے اسے بھوک لگی تو اس کی ماں نے اسے کہا جا کر پیٹ بھر آ لیکن کسی برہمن کو نہ کھانا۔وہ گیا راستہ میں اسے جانوروں کا ایک بہت بڑا گلہ نظر آیا اسے وہ چٹ کر گیا۔پھر ایک گاؤں میں برات آئی ہوئی تھی۔سب براتیوں کو کھا گیا۔پھر پیاس لگی تو ایک دریا پی لیا با وجود اس کے اسے شکایت ہی رہی کہ پیٹ نہیں بھرا۔اب پہاڑ سر پر رکھ دینے کو صحیح مانا جائے تو اس کے انکار کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔- اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ جیسے معجزے دکھاتا ہے ان کی مثال زندہ رکھتا ہے۔وہ اپنے بندوں پر ہمیشہ اپنا کلام اس لئے نازل کرتا ہے تا لوگ انکار نہ کر دیں۔مثلاً کوئی کہے کہ موسیٰ کے عصا کا نشان اب کہاں ہے؟ تو اسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ نشان یہی تھا نا کہ سونٹے کا سانپ بن گیا