خطبات محمود (جلد 12) — Page 448
خطبات محمود ۴۴۸ جائے کہ کوئی شخص تمام دنیا کی زبانوں، دلوں، گفتگوؤں اور عقائد کو اپنے جیسا بنا لے تو لازماً ترقیات رُک جائیں گی۔اور دنیا بجائے ترقی کرنے کے تنزل کی طرف جانے لگے گی لیکن اس حقیقت کو جاننے کے باوجود پھر بھی میں یہی کہوں گا کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے بعض اختلاف فروعات کے متعلق ہوتے ہیں جنہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن بعض ایسے ہوتے ہیں کہ بظاہر تو فروع نظر آتے ہیں لیکن ان کا بُرا اثر جڑ پر پڑتا ہے۔مثلاً پہاڑ کو اٹھا کر سروں پر معلق رکھ دینے کے مسئلہ کو ہی لے لو قطع نظر اس سے کہ قرآن کریم کا استدلال اسے غلط ثابت کرتا ہے یا تاریخ اسے غلط قرار دیتی ہے اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ قرآن کریم یا تاریخ میں اس کے خلاف کوئی بات نہیں تو بھی ان معنوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اگر ایسے معجزات کو ماننے کا دروازہ کھول دیا جائے تو اس کے دو خطرناک نتائج نکلیں گے۔اول سلسلہ پر سخت زد پڑے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف مولوی ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ جس طرح کے معجزات سابق انبیاء سے ظاہر ہوئے تھے آپ ویسے نہیں دکھا سکتے۔یہ بھی کوئی معجزہ ہے کہ کسی بیمار کے لئے دعا کی تو وہ اچھا ہو گیا یا یہ کہ دیا کہ طاعون آئے گی لیکن میرا گھر اس سے محفوظ رہے گا۔معجزہ تو یہ ہے کہ پہاڑ کو چوٹی سے پکڑ کر اُٹھا لیا اور لوگوں کے سروں پر معلق کر دیا کہ ماننا ہے تو مانو ورنہ ابھی پہاڑ گرا کر تمہیں تباہ کر دیا جائے گا۔اسی طرح یہ کیا معجزہ ہے کہ کسی کے لئے دعا کی اور اس کے ہاں بیٹا پیدا ہو گیا۔معجزہ یہ ہے کہ مٹھی میں مٹی کی اور زور سے پھینکا تو اس سے چڑیاں چوں چوں کرتی ہوئی اڑ گئیں۔غرض مولوی اعتراض کرتے تھے کہ تم دعوئی تو مسیح موعود ہونے کا کرتے ہو لیکن معجزات اس قسم کے نہیں دکھاتے اور حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف یہ بہت بڑا فتنہ تھا اور آپ ساری عمر اس کے دور کرنے میں لگے رہے۔رات دن آپ کا یہی وعظ تھا کہ ایسا بیان کرنے والے غلطی پر ہیں۔ہمارے کانوں میں ابھی تک وہ الفاظ گونج رہے ہیں اور وہ لہجہ جو آپ کی گفتگو کا تھا وہ اب بھی ہمارے قلوب کو متحرک کر رہا ہے اور ہمارے چھوٹے اور بڑے جنہیں آپ کی مجالس میں بیٹھنے کا فخر حاصل ہے انہیں یہ باتیں اچھی طرح یاد ہیں۔اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ واقعہ میں پہاڑ اُٹھا کر سروں پر معلق کر دیا گیا تھا یا یہ کہ جیب میں پتھر رکھا تھا جہاں گئے اس پر سونٹا مارا اور جھٹ اس سے چشمے پھوٹ پڑے تو حضرت