خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 405

خطبات محمود ۴۰۵ سال ۱۹۳۰ء سرکار تمہیں اسی لئے تنخواہ دیتی ہے کہ ضرورت کے موقع پر جنگ کرو۔اس نے کہا اچھا میں جا کر فوج سے دریافت کرتا ہوں اور پھر واپس آکر کہنے لگا وہ لڑائی پر جانے کو تیار ہیں لیکن علاقہ چونکہ خطرناک ہے اس لئے کچھ پولیس حفاظت کے لئے ساتھ کر دی جائے۔تو اگر ہم یہ کہیں کہ چونکہ فلاں ہمارا ساتھ نہیں دیتا اس لئے ہم بھی کچھ نہیں کر سکتے تو یہ وہی کشمیر یوں والی مثال ہو گی۔سپاہی کا کام یہ نہیں کہ دریافت کرے کہ کوئی اور میرے ساتھ جانے والا ہے یا نہیں بلکہ جب اسے حکم ہوتا ہے وہ فورا چل پڑتا ہے۔اور تم لوگ بھی جب خدا کی فوج میں داخل ہو گئے تو یہ کہنا نا دانی ہے فلاں چونکہ کام نہیں کرتا اس لئے ہم بھی نہیں کرتے۔دوسرے مسلمانوں کے متعلق تو بذریعہ الہام ہمیں اطلاع دی جاچکی ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے لیکن اگر اپنوں کے متعلق کہو کہ فلاں نہیں کرتا اس لئے ہم بھی نہیں کرتے تو یہ کشمیریوں والی بات ہو گی۔اگر تم خدا کے سپاہی ہو تو خواہ وہ لوگ جو اس وقت تمہارے ساتھ ہیں وہ بھی ہٹ جائیں تب بھی اکیلے ہی اسے کرنا تمہارا فرض ہے۔مجھے اپنی زندگی کے واقعات میں سے ایک واقعہ ہمیشہ پسند آتا ہے اور اسے یاد کر کے میں اپنے نفس میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسکی توفیق دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے تو اللہ تعالی نے میرے دل میں خیال ڈالا اور میں نے حضور کی نعش مبارک کے سرہانے کھڑے ہو کر قسم کھائی کہ اگر ایک بھی انسان میرے ساتھ نہ رہے گا تب بھی میں اکیلا ہی پوری طاقت سے احمدیت کی اشاعت کروں گا۔اور میں سمجھتا ہوں جب تک کسی کے نفس میں یہ بات نہ ہو کہ میں اکیلا ہی اس کے لئے ذمہ دار ہوں اُس وقت تک کام ہو ہی نہیں سکتا۔یہ ادنی اور کم سے کم ایمان ہے۔آگے عملاً جو کچھ کرنا ہے وہ تو بعد میں دیکھا جائے گا لیکن کم سے کم دل میں تو یہ احساس ہو چہ جائیکہ یہ کہا جائے چونکہ فلاں چندہ نہیں دیتا اس لئے ہم بھی نہیں دیتے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول نے ایک دفعہ کسی شخص کو ایک رقعہ دیا کہ فلاں جگہ پہنچا دو مگر کچھ دیر بعد آپ نے اُسے وہیں پھرتے دیکھا تو دریافت فرمایا: کیا وہ رقعہ پہنچا آئے ؟ اس نے جواب دیا حضور ابھی کوئی آدمی نہیں ملا۔آپ نے فرمایا تھوڑی دیر کے لئے تم خود ہی آدمی بن جاتے تو کیا حرج تھا۔غرض کام اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہر انسان یہ سمجھ لے کر میں ہی وہ آدمی ہوں جس کے سپرد یہ کام ہے۔اگر اکیلا ہے تو اسے تو اور بھی زیادہ خوش ہونا چاہئے کہ مجھے زیادہ ثواب کا موقع مل گیا۔بھلا کوئی شخص یہ بھی خیال کر سکتا ہے کہ میں زور سے اسلام کو غالب کرلوں گا انبیاء بھی ایسا دعویٰ نہیں