خطبات محمود (جلد 12) — Page 388
خطبات محمود ۳۸۸ سال ۱۹۳۰ء لوگوں کو سمجھانا مشکل ہے۔ایسی باتیں سمجھانے والے ملک کے لوگ ہونے چاہئیں۔اب ایک عام مجمع کا جو شہر میں جتھا بنا کر پھر رہا تھا مقابلہ کرنے سے ایک حصہ فوج نے انکار کیا جیسا کہ کہا جاتا ہے اگر یہ بات پھیل جائے تو کیسی خطرناک حالت ہو جائے مگر انہیں لوگوں کو سمجھانے والے اگر ان کے آزاد ہم وطن ہوتے تو کون کہہ سکتا ہے کہ ان پر اثر نہ ہوتا۔غرض ایک طرف اگر کانگریس غلط طریق اختیار کئے ہوئے ہے تو دوسری طرف گورنمنٹ بھی غلطی کر رہی ہے اور مسلمانوں کے لئے بہت مشکل پیدا ہوگئی ہے۔مسلمان قانون شکنی نہ کریں اور نمک سازی بھی نہ کریں مگر یہ بھی تو نہیں ہو سکتا کہ وہ ملک کی حریت اور آزادی کے لئے کچھ نہ کریں۔لیکن اگر وہ اس کے لئے آواز اُٹھاتے ہیں تو کانگریس کے حامی اور مددگار سمجھے جاتے ہیں اور اگر خاموش رہتے ہیں تو ملک کے دشمن قرار پاتے ہیں۔ان کی حالت بعینہ اس کی مصداق ہے گوئم مشکل وگر نہ گوئم مشکل اگر بولتے ہیں تو کانگریس کے حامی کہلاتے ہیں اور اگر نہیں بولتے تو حکومت کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔مسلمانوں کی اس مشکل کا ازالہ بھی گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے مگر افسوس ہے کہ گورنمنٹ نے اس کے متعلق کچھ نہیں کیا۔اس وقت چاہئے تھا کہ گورنمنٹ مسلمانوں کو یقین دلاتی کہ ہم تمہارے جائز حقوق تمہیں دینے کے لئے تیار ہیں۔یا کم از کم اس بات کا اقرار کرتی کہ کانگریس سے مسلمانوں کا علیحدہ رہنا اس لئے نہیں کہ وہ سکتے ہیں اور کچھ کر نہیں سکتے بلکہ اس لئے ہے کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں اور قانون کے اندر رہ کر ملک کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔اگر حکومت اس بات کا اعتراف کرتی تو مسلمان یقینا عملی طور پر اس کی مدد کے لئے تیار ہو جاتے اور گورنمنٹ کو کام کرنے والے لوگ مل جاتے۔بے شک ایک حصہ مسلمانوں کا ایسا ہے جو کانگریس کے ساتھ ہے مگر یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں۔کانگریس نے اپنے فیصلہ میں مسلمانوں کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور ان کے حقوق کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ایسی حالت میں کانگریس کا ساتھ دینا مسلمانوں کے حقوق کو تباہ کرنا ہے۔یہ لوگ کہتے ہیں کانگریس نے کہہ دیا ہے کہ حکومت حاصل ہو جانے پر اقلیتوں کو راضی کیا جائے گا۔اور کوئی فیصلہ اقلیتوں کی منشاء کے خلاف نہ کیا جائے گا۔اس کے متعلق اول تو یہ سوال ہے کہ جب حکومت کا نگریس کے ہاتھ میں آ جائے گی اس وقت ان لوگوں کا کیا اعتبار ہے کہ اس وعدہ پر قائم رہیں گے۔دوم یہی الفاظ جو اس وقت مسلمانوں کی تسلی کے لئے پیش کئے