خطبات محمود (جلد 12) — Page 357
خطبات محمود ۳۵۷ سال ۱۹۳۰ء سمجھ گیا ہوں لیکن ایک اعتراض جو سب سے بڑا ہے وہ میں نے آج تک چھپائے رکھا تھا اسے اب پیش کرتا ہوں اور وہ اعتراض یہ ہے کہ آپ کی جماعت رسول کریم ﷺ کی عزت نہیں کرتی اور جماعت کے لوگ آپ کے سامنے ایسا فعل کرتے ہیں کہ جس سے آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے لیکن آپ انہیں روکتے نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دریافت فرمایا وہ کونسی ایسی بات ہے؟ انہوں نے کہا آپ کی جماعت آپ کو حضرت“ کہتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی عزت ان کے دل میں نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہتیر اسمجھایا کہ ہمارے ملک میں تو حضرت معمولی لوگوں کو بھی کہہ دیا جاتا ہے اور میری جماعت کے لوگ تو مجھے مامور من اللہ سمجھتے اور میری اطاعت کا اقرار کرتے ہیں۔پھر میں تو ان کو نہیں کہتا کہ مجھے وہ حضرت کہیں لیکن اگر وہ خود کہتے ہیں تو اس میں قباحت ہی کیا ہے۔اس ملک میں تو حضرت بُرے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔لیکن مولوی صاحب نے کہا میں سمجھ ہی نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور آئے اور لوگ اسے حضرت کہیں۔نبوت وفات مسیح اور دیگر تمام اختلافی مسائل تو ان کی سمجھ میں آگئے لیکن اس معمولی سی بات کو وہ نہ سمجھ سکے اور اُٹھ کر چلے گئے۔تو انسان کے دل میں جب کوئی رگرہ پڑ جائے تو اس کا سلجھا نا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔عقل سے کام لینا اس کے لئے ایک امر محال ہو جاتا ہے۔یہی حال ہمارے بعض دشمنوں کا ہے۔وہ عقل کو اس طرح کھو بیٹھے ہیں کہ گویا اس سے انہیں کبھی کوئی حصہ ملا ہی نہ تھا۔اور انہیں دیکھ کر یہ خیال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مخلوق پیدا کرتے وقت دو طرح کے انسان پیدا کئے تھے ایک کو عقل دی اور دوسرے کو بالکل نہیں دی اور یہ لوگ وہ ہیں جنہیں عقل سے کوئی حصہ نہیں ملا۔ایک بالکل گھلی اور موٹی بات ہوتی ہے لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آتی مثلاً یہی فتنہ ہے اس کے متعلق بعض ہندو اور مسلمان اخبارات مضامین لکھ رہے ہیں کہ یہ مستری مظلوم اور احمدی ظالم ہیں جو مستریوں پر بہت مظالم کر رہے ہیں۔اور ایک اخبار نے تو فورا ہی ان سب کو مولا نا بنا دیا ہے حالانکہ یہ سب جاہل مطلق ہیں سوائے عبد الکریم کے جس نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔باقی سب اُس کا باپ اور بھائی اور دیگر ساتھی محض جاہل ہیں اور دینی علوم سے انہیں کوئی مس ہی نہیں لیکن ہماری مخالفت سے وہ ایک دم ”مولانا“ بنا دیے گئے ہیں۔ان کی مولویت کا خاکہ تو مولوی محمد یار صاحب نے ضلع سیالکوٹ میں بہت اچھی طرح کھینچا