خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 238

خطبات محمود ۳۲ سال ۱۹۲۹ء آپس میں سگے بھائیوں سے بھی زیادہ محبت رکھو ) فرموده ۲۷ - دسمبر ۱۹۲۹ء) تشهد تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں وقت سے دیر کر کے اس لئے آیا ہوں کہ مجھے بٹالہ سے جماعت کے بعض دوستوں نے تار دیا تھا کہ گاڑی لیٹ ہو گئی ہے ہمارا کسی قدر انتظار کیا جائے میں اس انتظار کے بعد اس فکر میں پڑ گیا کہ اول تو جلسہ کی وجہ سے ہی ضرورت تھی کہ نہایت مختصر خطبہ پڑھا جائے اور اب تو اس انتظار کی وجہ سے اور بھی اختصار ضروری ہو گیا ہے پھر میں خطبہ میں کہوں کیا ؟ جب یہ خیال میرے دل میں آیا تو ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ یہی انتظار ہمارے لئے نصیحت کا موجب ہوسکتا ہے پھر کیوں نہ اس سے فائدہ اُٹھایا جائے۔میں نے دل میں خیال کیا کہ جمعہ کی نماز ایک الہی فرض ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے متعلق حکم ہے کہ جب اذان کہی جائے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لئے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے مگر باوجود اس حکم کے ہم نے بعض ایسے دوستوں کی دلدہی کے لئے جن کا جمعہ میں شامل ہو جانا یقینی نہ تھا اس فرض کی ادائیگی میں تاخیر کی اگر چہ یہ تأخیر اور تعویق خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف نہیں بلکہ مطابق ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے ہر نماز کے لئے دو اوقات ہیں ایک ابتدائی اور ایک انتہائی۔ایک شخص آپ کے پاس آیا اور دریافت کیا یا رسول اللہ! نمازوں کے اوقات کیا ہیں آپ نے فرمایا یہاں ٹھہرو اور اس کے سامنے پانچ نمازیں آپ نے ابتدائی اوقات میں ادا کیں اور فر مایا یہ تو ابتدائی اوقات ہیں پھر دوسرے دن پانچ انتہائی اوقات میں ادا کیں اور فرمایا