خطبات محمود (جلد 12) — Page 20
سال ۱۹۲۹ء ہے یہ دونوں باتیں کس طرح درست ہو سکتی ہیں۔میں کہتا ہوں دونوں باتیں درست ہیں۔جو انسان حقیقی اصلاح کے لئے کھڑا ہوتا ہے خدا تعالیٰ اس کی حفاظت کرتا ہے اور بادشاہ چونکہ خدا کے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اس لئے وہ اس کا محافظ ہوتا ہے۔اگر امان اللہ خاں حد سے نہ بڑھ جاتے تو بالکل ممکن تھا کہ جب ان کے خلاف بغاوت ہوئی خدا تعالیٰ کا تائیدی ہاتھ اُٹھتا اور انہیں بچالیتا لیکن جب خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ وہ بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں اور جبر سے کام لیتے ہیں تو خدا نے تائید نہ کی۔پس با وجود اس کے کہ میں بغاوت کو نا جائز قرار دیتا ہوں یہ سمجھتا ہوں کہ اس میں خدا کا ہاتھ کام کر رہا ہے اور اگر آج بھی وہ اصلاح کرلیں اور عہد کریں کہ مذہبی امور میں جبر نہیں کریں گے نہ مذہبی معاملات میں دست اندازی کریں گے تو کوئی تعجب نہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں پھر حکومت دیدے کیونکہ دنیا میں ایسا ہوتا آیا ہے کہ کئی لوگوں نے ایک دفعہ حکومت کھو کر دوبارہ حاصل کر لی۔بابر کے ساتھ کئی دفعہ ایسا ہوا ہمایوں کے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش آیا اور امیر تیمور سے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا پس امان اللہ خاں کی ایک دفعہ کی شکست کوئی بڑی چیز نہیں اگر وہ تو بہ کر لیں تو خدا تعالیٰ پھر انہیں حکومت کرنے کا موقع دے سکتا ہے اور ان کی شکست فتح سے تبدیل ہو سکتی ہے یا اگر خدا تعالیٰ کی تقدیر افغانستان میں اسلام کے بعض احکام کو مٹوانا ہی چاہتی ہو تو ممکن ہے بغیر تو بہ کے ہی دوبارہ موقع دیدے اس وقت تک جو کچھ ہو چکا ہے یہ ایسی بات نہیں جس میں تغیر نہ ہو سکے۔سب کچھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔بہر حال بغاوت کے متعلق ہمارا خیال ہے کہ نا جائز ہے سوائے اس کے کہ لوگ ملک سے نکلنا چاہتے ہوں مگر حکومت انہیں وہاں رہنے اور شرعی احکام کے خلاف عمل پیرا ہونے پر مجبور کرے۔مثلاً اگر کوئی بادشاہ اپنی رعایا کو ایسے موقع پر تلوار میں اُٹھانے کا حکم دے جو شرعاً ناجائز ہو اور رعایا انکار کر دے لیکن بادشاہ مجبور کرے تو اس صورت میں رعایا کا فرض ہے کہ ملک سے نکل جائے ہاں اگر وہ ملک سے نکلنے بھی نہ دے تو پھر مقابلہ جائز ہے۔ہمیں معلوم نہیں افغانستان میں ایسی صورت پیش آئی یا نہیں، اگر پیش آئی تو مقابلہ کرنے والے باغی نہیں بلکہ وہ معذور ہیں لیکن اگر پیش نہ آئی اور جہاں تک حالات سے ظاہر ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ پیش نہیں آئی تو وہ باغی اور خدا تعالیٰ کے گناہ گار ہیں۔بہر حال ہم دونوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں ہم امان اللہ خاں کو بھی غلطی پر سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے ایسے امور میں دخل دیا جن میں دخل دینے کا انہیں حق نہ تھا اور