خطبات محمود (جلد 12) — Page 193
خطبات محمود ۱۹۳ سال ۱۹۲۹ء ہے کہ ہزار ہا چیز میں اسے اپنی طرف کھینچنے کے لئے موجود ہیں۔اسے پانچ حواس دیئے گئے ہیں جن سے دنیا ہر وقت اسے اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے اور اس پر کوئی وقت ایسا نہیں آتا جبکہ کوئی چیز اسے چُھو کر اپنی طرف متوجہ نہ کر ہی ہو۔یا کوئی خوشبو یا بد بو اس کے دماغ میں سے گذر کر اسے اپنی طرف نہ کھینچ رہی ہو تی کہ جس وقت انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ کچھ محسوس نہیں کر رہا اُس وقت بھی وہ محسوس کر رہا ہوتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جس وقت انسان کو یہ خیال ہو کہ وہ کچھ محسوس نہیں کر رہا اُس وقت وہ سب سے زیادہ محسوس کر رہا ہوتا ہے کیونکہ احساسات کی کثرت جس کو کمزور کر دیتی ہے اور جب احساسات کی کثرت ہو تو دماغ میں ایک قسم کی پراگندگی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے قلتِ احساس کے وقت ہی انسان ٹھیک طور پر کسی بات کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔پس ہر وقت انسان کو مختلف چیزیں اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔کبھی اس کی آنکھوں کے ذریعہ سے کبھی ناک کے ذریعہ اور کبھی کانوں کے ذریعہ سے، کبھی گرمی سردی محسوس کرنے والے اعصاب کے ذریعہ سے اور کبھی سختی نرمی محسوس کرنے والے اعصاب کے ذریعہ سے۔غرضیکہ بہت سے ذرائع ہیں جو انسان کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں اور ان کی وجہ سے انسان کی نظر محتاج ہے کہ اسے حقیقی مد نظر پر کوئی اور توجہ دلائے۔اس کے کان محتاج ہیں کہ وہی سر اُسے سنائی جائے جس کا سننا اس کا اصل مقصود ہے اس کی زبان محتاج ہے کہ وہی مزا اُسے چکھایا جائے جس کا چکھنا اس کے لئے مفید ہے اور اس کی ناک محتاج ہے کہ اسے وہی خوشبو سونگھائی جائے جس کا سونگھنا اس کے لئے موجب برکت ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ اور انبیاء کی تحریکوں میں تکرار بہت ہوتا ہے بلکہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر یہ اعتراض نہ کیا گیا ہو کہ اس کی باتوں میں تکرار بہت ہے اور اسلئے اس کے کلام میں بے لطفی پیدا ہو جاتی ہے۔اس وقت چھ سات آسمانی صحائف دنیا میں موجود ہیں اور ایک مامور ابھی ہم میں گذرا ہے اس کی کتابیں دیکھی جائیں تو ان سب میں تکرار پایا جاتا ہے۔وید پر اعتراض کیا گیا ہے کہ اس میں وہی شلوک بار بار آتے ہیں۔گو اس کے ماننے والے وید کو نظر انداز کر کے قرآن کریم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں تکرار بہت ہے حالانکہ قرآن کریم میں صرف مطالب کی تکرار ہے اور ویدوں میں لفظوں کی تکرار ہے۔تو تمام الہامی کتابوں میں تکرار ہے اور تمام انبیاء پر تکرار کا الزام لگایا گیا۔اس زمانہ کے موعود پر بھی یہ اعتراض کیا گیا کہ اس کی تقریر پھیکی ہوتی ہے کیونکہ اس میں تکرار بہت ہوتا ہے۔پھر انبیاء کے