خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 194

خطبات محمود ۱۹۴ سال ۱۹۲۹ء قائم مقاموں پر بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے۔چنانچہ مجھے پر بھی اعتراض ہوتا ہے لیکن مجھے بُرا معلوم نہیں ہوتا بلکہ خوشی ہوتی ہے کہ چلو ہم بھی لہوں گا کے شہیدوں میں شامل ہو گئے۔ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ کے کلام میں تکرار بہت ہوتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ نے اس کا نہایت ہی لطیف جواب دیا۔فرمایا اگر ایک دفعہ کہنے سے لوگ ہماری بات مان جائیں تو ہم پھر اس کا تکرار نہ کریں لیکن چونکہ وہ مانتے نہیں اس لئے ہمیں بھی وہ بات دُہرانی پڑتی ہے۔در حقیقت تکرار انسان کو بیدار کرنے کے لئے جو ضروری سامان ہیں ان میں سے ایک سامان ہے اور تکرار کو ترک کرنا اور اسے غیر ضروری قرار دینا فطرت انسانی اور اُس وسیع تجربہ کو جو آدم سے لے کر اس وقت تک کا ہے جھٹلا نا ہے۔بلکہ خود فطرت انسانی کے پیدا کرنے والے کے علم سے نا واقفیت کی دلیل ہے۔میرے نزدیک یہ سخت غلطی ہوئی ہے اور اسے غفلت مجرمانہ کہنا چاہئے کہ جلسہ سالانہ کے متعلق ابھی تحریک نہیں کی گئی۔جلسہ سالانہ ایسے امور میں سے ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے سلسلہ کی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے ارشاد فرمائے ہیں اور آپ نے اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے القاء اور الہام کی بناء پر قائم کیا ہے۔جیسا کہ کئی ایک الہامات سے ظاہر ہے مثلاً آپ کو الہاما حجرِ اسود کہا گیا ہے پھر بیت اللہ سے قرار دیا گیا ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ جب کسی انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے حجر اسود يا بيت الله کہا جائے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ پتھر ہو گیا ، بلکہ یہ ہوتے ہیں کہ جو باتیں ان سے وابستہ ہیں وہی اس کے ساتھ ہونگی۔جس طرح ہر سال چاروں طرف سے لوگ حجرِ اسود اور بیت اللہ کے گرد جمع ہوتے ہیں۔اسی طرح اس کے پاس اور اس کے مقرر کردہ مقام میں آئیں گے اور جو لوگ ہر سال جلسہ کے لئے یہاں آتے ہیں وہ ان الہامات کو پورا کرنے والے ہیں۔اصل میں بیت اللہ وہی ہے جسے خدا تعالیٰ نے ازل سے بیت اللہ قرار دیا ہے اور حجرِ اسود بھی وہی ہے جو بیت اللہ میں ہے لیکن یہ صرف مشابہت کی وجہ سے حضور علیہ السلام کے نام رکھے گئے۔جیسے مسیح ناصری تو وہی ہے جو ناصرہ میں پیدا ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام بھی مشابہت کی وجہ سے مسیح رکھا گیا۔نادان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ حج کے قائل نہ تھے اور بیت اللہ کی آپ تو قیر نہیں کرتے تھے حالانکہ سوچنا