خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 170

خطبات محمود { ረ۔سال ۱۹۲۹ء ہیں۔اس میں ہمارے لئے کوئی ڈر کی بات نہیں اور ہم قبل از وقت کہہ سکتے ہیں کہ جو بھی احمدیت کے مقابلہ میں کھڑا ہو گا تباہ و برباد ہو جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ مرزا صاحب کا مقابلہ بہاء اللہ سے کیا جائے۔مگر یہ بالکل غلط طریق ہے کیونکہ حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت کا تھا لیکن بہاء اللہ نبوت کا منکر تھا پھر مقابلہ کے کیا معنی۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے چنبیلی کے پتے کا کیکر کے پتہ سے مقابلہ کیا جائے یا کہے محمد کے کا مقابلہ ایڈیسن سے کیا جائے۔ایسے شخص کو کہا جائے گا نادان! ایڈیسن ایک موجد تھا اور رسول کریم ہے نبی تھے پھر موجد اور نبی کا مقابلہ کیونکر کیا جا سکتا ہے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک ص بادشاہ کے پاس گیا اور جا کر کہا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں مجھ پر ایمان لائیں۔بادشاہ نے پوچھا۔اپنی صداقت کا کوئی ثبوت دیں۔وزیر پاس بیٹھا تھا اس نے کہا میں اسے قابو کرتا ہوں یہ کہہ کر وہ ایک خاص قسم کا تالا لے آیا جو آسانی سے نہ کھل سکتا تھا اور اس کے سامنے رکھ کر کہنے لگا اسے کھول دو تو ہم تمہیں سچا سمجھ لیں گے۔اس نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور کہنے لگا میں اسے بے وقوف سمجھوں یا آپ کو جنہوں نے ایسے شخص کو وزیر بنا رکھا ہے۔میں نے اعلیٰ درجہ کا لوہار ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ مامور ہونے کا کیا ہے اور مامور کی صداقت کا پتہ تالا کھولنے سے نہیں لگایا جا سکتا۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ دعوئی ہی نہیں جو بہا ء اللہ کا ہے تو پھر ان کا مقابلہ کس بات میں کیا جا سکتا ہے۔بہا ء اللہ تو یہ کہتا ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آ سکتا نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہے اور قرآن منسوخ ہو گیا ہے۔مگر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی اتباع اور رسول کریم کی تابعداری میں اب بھی نبی آ سکتا ہے ہاں کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو قرآن کو منسوخ کرے اور شریعتِ اسلامیہ کو بدل دے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بہاء اللہ کا کیا مقابلہ کیا جا سکتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ نبوت کا بالکل خاتمہ ہو گیا اور رسول کریم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت منسوخ ہو گئی اور میں نئی شریعت لایا ہوں۔پس وہ تو چیز ہی اور ہے جس کا بہاء اللہ کو دعوئی ہے اور ہم تو نبوت سے او پر خدائی کو ہی سمجھتے ہیں۔نبوت کو بند کرنے کے بعد اس سے اوپر جس بات کا دعوی ہو وہ خدائی کا دھوئی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں بہاء اللہ کا دعویٰ خدائی کا دعوی نہ تھا مگر یہ غلط ہے ان کی بیعت فارم جو چھپی ہوئی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں چھپ چکی ہے اور آج تک کسی بہائی نے اس کا انکار نہیں کیا اس میں لکھا ہے۔