خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 152

خطبات محمود ۱۵۲ ۲۱ سال ۱۹۲۹ء مناظر قدرت سے صداقت اسلام فرموده ۲۔اگست ۱۹۲۹ء بمقام آڑو کشمیر ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں کئی ایسے مضامین آئے ہیں جن کو پہلے زمانہ کے لوگوں نے نہ سمجھا اور ان کے کچھ کے کچھ معنے کئے اس لئے ان پر اعتراض کئے گئے لیکن جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا نئے نے علوم نکلتے گئے نئی نئی تحقیقا تیں ہوتی گئیں ، لوگوں کو قرآن کریم کے ان مضامین کا صحیح علم ہوتا گیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ ان میں اسلام کی صداقت پائی جاتی ہے۔اسی طرح احادیث میں کئی باتیں ایسی آئی ہیں جن پر پہلے اعتراض کئے گئے مگر علوم کی ترقی ہونے پر ماننے لگے کہ وہ بالکل صحیح اور درست ہیں۔مثلاً یہی پہاڑ ہیں جن میں سے آج ہم گزرے ان کے متعلق قرآن کریم میں کئی باتیں بیان کی گئی ہیں جنہیں پہلے لوگوں نے نہ سمجھا اور اپنے علم کی کمی کی وجہ سے حیران رہ گئے کہ ان کا کیا مطلب ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں پہاڑوں کے قیام کی ایک غرض یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ وَالْجِبال أوتادا جس کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ پہاڑ دنیا کو ہلاکت سے بچانے والے ہیں اس طرح کہ ان کے باعث زلزلوں کی تباہی سے انسان محفوظ کئے گئے لیکن لوگوں نے اس کے معنی نہ سمجھے اور جو دشمن تھے انہوں نے یہ اعتراض کیا کہ قرآن نے پہاڑوں کو شیخ قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح کیلے کے ساتھ گھوڑا بندھا ہوتا ہے اسی طرح زمین پہاڑوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہے حالانکہ اس کا مفہوم وہی ہے جو آج علم طبقات الارض سے ثابت ہو گیا ہے کہ پہاڑ زمین کیلئے بطور شیخ ہیں جو اسے زلزلوں کی تباہی سے روکتے ہیں وہ زائد