خطبات محمود (جلد 12) — Page 144
خطبات محمود ۱۴۴۴ سال ۱۹۲۹ء سے زیادہ طلب کرتے ہیں اور چھوٹے اس لئے کہ بڑے ان کے حقوق ادا نہیں کرتے اس لئے درمیانی راہ اختیار کرنی چاہئے اور وہ یہی ہے کہ نہ حق سے زیادہ طلب کیا جائے اور نہ غیر کے حق کو روکا جائے۔بالخصوص قومی حقوق کو تو ہرگز روکنا نہیں چاہئے۔اس سے یہ میرا نہیں کہ فردی حقوق کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے بلکہ یہ میراد ہے کہ قومی حقوق کے ادا نہ کرنے سے بہت بڑا نقصان ہوتا ہے نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔آج مسلمانوں میں یہ دونوں قسم کے حقوق ادا نہیں کئے جاتے نہ قومی حقوق ادا ہوتے ہیں نہ فردی۔تمام قسم کے جرائم مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں مگر پھر بھی وہ خیال کرتے ہیں کہ تمام عزتیں ان کا حق ہے اس لئے مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہیں۔دوم۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ جب ان کی حالت خراب ہو جائے گی اسلام کو چھوڑ دیں گے تو ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو ان کی اصلاح کرے گا اور ان کی حالت کو سنوارے گا مگر ان لوگوں نے اس نعمت کا بھی انکار کر دیا۔اگر مسلمان اپنے حقوق کو سمجھتے اپنے مقام کو سمجھتے تو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ نہ بنتے مگر نہ انہوں نے اپنے حقوق کو سمجھا اور نہ مقام کو جس کی وجہ سے گر گئے اور پھر جو خدا کی طرف سے علاج آیا اسے بھی قبول نہ کیا۔اگر اس علاج ہی کو قبول کر لیتے تو بھی غضب کی حالت سے نکل کر مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ میں داخل ہو جاتے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلموں اور غیر مسلموں کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ خدا کی دی ہوئی ہدایتوں پر عمل کریں اور مُنْعَمُ عَلَیہ گروہ میں داخل ہوں اور مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور ضالین ہونے سے بچائے جائیں۔آمین۔(الفضل ۱۶۔اگست ۱۹۲۹ء) الفاتحة: ۵ ٢ الفاتحة: ٣ الفاتحة : ٧٦ الفاتحة : ۴ ۵ بخارى كتاب الدعوات الاستعاذة من ارذل العمر و من فتنة الدنيا ومن فتنة النار بخارى كتاب الاشربة باب هل يستاذن الرجل من عن يمينه في الشرب ليعطى الاكبر