خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 110

خطبات محمود ۱۴ سال ۱۹۲۹ء روحانی سز ا سب سے سخت سزا ہے (فرموده ۱۷ مئی ۱۹۲۹ ء ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میں ایک ایسے مضمون کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جو ایک مقدمہ کے دوران میں میرے سامنے آیا۔کچھ عرصہ ہوا قادیان کے بعض لوگوں نے ایک جھگڑے کی بناء پر جو دو تین آدمیوں میں ہوا محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا ترک کر دیا۔میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ کسی آدمی سے لڑائی ہو جانے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی چاہئے۔مسجد میں نماز ادا کر نا خدا تعالٰی کا مقررہ کردہ فرض ہے۔اگر ایک مسجد میں کسی نماز پڑھنے والے یا امام سے بھی لڑائی ہو جائے تو بھی کسی صورت میں جائز نہیں کہ مسجد کی نماز ترک کر دی جائے۔ہمارے بعض عزیز اور رشتہ دار ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے ملاقات کرنے میں بعض اوقات تختیں ہوتی ہیں لیکن باوجود ان وقتوں کے ہم ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔پھر کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ رشتہ دار کی ملاقات کے لئے تو ہر قسم کی تکالیف برداشت کر لی جائیں لیکن اپنے آقا اور پیدا کرنے والے کی ملاقات کے لئے ذرا ذراسی باتوں کو روک بنالیا جائے۔مسجد کیا ہے؟ خدا تعالیٰ کا گھر ہے اور اس میں نماز ادا کرنا خدا تعالیٰ کی ملاقات کے مترادف ہے۔یہ کوئی شاعرانہ لطیفہ نہیں بلکہ خود رسول کریم ﷺ نے نماز کو خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔پس جو شخص