خطبات محمود (جلد 12) — Page 8
خطبات محمود اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی اعلان کیا تھا اگر ثالث یہ فیصلہ کر دے کہ میر کی طرف سے زیادتی ہوئی نہ کہ مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے تو میں شرح صدر سے معافی مانگنے کے لئے تیار ہوں۔کیونکہ اپنی غلطی کا اعتراف بہت بڑی نیکی کا کام ہے اور اسی طرح میں اپنی جماعت کا بھی ذمہ دار ہوں۔على هذا القياس مولوی محمد علی صاحب کو بھی اس کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ اگر ان کے خلاف فیصلہ ہو تو معافی مانگیں۔میں تو خلیفہ ہوں اور ان کی پوزیشن صرف ایک پریذیڈنٹ کی ہے۔اگر میں خلیفہ ہو کر اپنے خلاف فیصلہ کو خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو ماننے کے لئے تیار ہوں کیونکہ یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں تو انہیں بھی اسے تسلیم کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور اگر ثالث فیصلہ کرے کہ انہوں نے زیادتی کی ہے تو اپنی غلطی کا اعتراف کر کے عَلَى الْإِعْلان معافی مانگنی چاہئے۔میرا خیال ہے کہ اگر ایک دفعہ اس طرح صحیح فیصلہ ہو جائے میرا یہ مطلب نہیں کہ ثالث بد دیانتی کرے گا بلکہ صرف یہ مقصد ہے کہ اس سے بھی غلطی کا امکان ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ اگر صحیح فیصلہ ہو جائے تو یہ بات آئندہ اتحاد کے لئے بہت مفید ہوگی اور کوئی تعجب نہیں کہ آئندہ مذہبی اتحاد کی بھی کوئی صورت پیدا ہو جائے کیونکہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے سے انسان کے لئے راستی اور صداقت کو تسلیم کر لینا آسان تر ہو جاتا ہے۔اس فیصلہ کے لئے میں نے جو شرائط پیش کی تھیں وہ یہ تھیں کہ جس تاریخ سے معاہدہ کا اعلان ہوا اس سے لیکر اس تاریخ تک کہ میں نے یہ دیکھ کر کہ فریق ثانی نے معاہدہ کا کوئی احترام نہیں کیا اس کی منسوخی کا اعلان کر دیا اس عرصہ کے تمام حالات کا مطالعہ کر کے ثالث کو یہ دیکھنا ہو گا کہ اس عرصہ میں شائع شدہ تحریروں یا تقریروں میں میری طرف سے زیادتی ہوئی یا مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے۔اگر وہ یہ فیصلہ کرے کہ زیادتی میری طرف سے ہوئی تو میں اپنی غلطی کا اعتراف کروں گا اور ان لوگوں کو جو تکلیف پہنچی اس کے لئے ان سے معافی مانگوں گا۔اس طرح اگر موادی محمد علی صاحب کی طرف سے زیادتی ثابت ہو تو وہ معافی مانگیں اسی طرح اخبارات کے متعلق فیصلہ ہو کہ کس نے زیادتی کی اگر ثابت ہو جائے کہ الفضل نے اس معاہدہ کو توڑا تو الفضل معافی کا اعلان کرے اور اگر یہ ثابت ہو کہ پیغام صلح نے اس کی خلاف ورزی کی تو وہ معافی مانگے اور اگر کسی فرد کی طرف سے معاہد ہ کا تو کرنا ثابت ہو تو اس سے معافی کا اعلان کرایا جائے۔در حقیقت کسی انسان کا دل دُکھانا ایک بہت بڑاجرم ہے اور