خطبات محمود (جلد 11) — Page 54
خطبات محمود ۵۴ سال 1927ء سے پھٹکارے جانے کی بجائے اس کی رحمت کے وارث ہو جاؤ۔پس اپنے زنگوں کو دھوڈالو اور عیبوں کو دور کر دو کہ تم پر وہ رحم کرے۔دنیا کی ملامت کی پرواہ نہ کرو۔دنیا اگر تمہیں برا کہے اور تم اچھے ہو تو تم برے نہیں ہو جاؤ گے اور دنیا اگر اچھا کے اور تم خدا کی نظر میں برے ہو تو اچھے نہیں ہو سکتے۔دنیا کی نظروں میں ذلیل اور معیوب ہونا کوئی خطرناک بات نہیں۔خطرناک بات یہ ہے کہ خدا کی نظروں میں تم ذلیل اور معیوب ہو جاؤ۔جن کے دلوں میں خدا کی محبت ہوتی ہے۔وہ خدا کی رضاء طلب کرنے والے ہوتے ہیں۔اور صرف اس کی خوشنودی ان کے مد نظر ہوتی ہے۔وہ دنیا کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتے۔دنیا کے طعنے ان پر اثر نہیں کرتے۔وہ ان طعنوں کے درمیان خدا کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔لیکن جن کے دل خدا سے دور ہوتے ہیں۔وہ طعنوں سے ڈرتے ہیں۔اور دنیا کے لوگوں کی باتیں انہیں فکر مند کر دیتی ہیں۔وہ لوگوں کی نظروں میں تو اچھے ہوتے ہیں۔لیکن خداتعالی کی نظروں میں اچھے نہیں ہوتے ہیں۔پس تم کوشش کرو کہ خدا تعالی کی نظروں میں اچھے ہو جاؤ۔وہ تمہیں پسند کر لے اور اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ دنیا کے لوگ تمہیں پسند نہیں کرتے اور اچھا نہیں کہتے کیونکہ وہ خدا کے مقابلہ میں تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔کوشش کرد که خدا تعالیٰ کے نزدیک ہو جاؤ۔کیونکہ بادشاہ اپنے نزدیک کے لوگوں پر زیادہ نظر ڈالتا ہے۔تم اس کے حضور عزت حاصل کرو اور اسے خوش کر لو۔اگر اسے خوش کر لو گے تو تمہیں کسی کی پروا نہ رہے گی۔اگر اس کو چھوڑ کر تم لوگوں کو خوش کرنے کے پیچھے لگ جاؤ گے تو یاد رکھو لوگوں کا خوش کرنا کام نہیں آئے گا۔تمہیں خدا کا طعن نقصان پہنچا سکتا ہے۔دنیا اگر ساری مل کر بھی تم پر طعن کرے اور لعنت ڈالے تو بھی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔پس تم اس بات سے بچو کہ خدا کا طعن تم پر پڑے۔اپنے آپ کو نفاق کی زندگی سے پاک کرو۔اخلاص پیدا کرد - اگر اخلاص پیدا نہ کرو گے۔اور نفاق سے اپنے آپ کو پاک نہ بناؤ گے۔تو تم خدا کو نہیں پاسکتے۔تزکیہ پیدا کرو۔اس کی محبت اور اس کی خشیت پیدا کرد۔ورنہ تم سے بدتر اور کوئی قوم نہ ہوگی کہ خدا تعالیٰ کے اس نبی کو پایا جو اس زمانے میں آیا اور پھر بھی چکنے گھڑے کی طرح رہے۔کہ ادھر پانی پڑا ادھر پھسل گیا۔تم چکنے گھڑے کی طرح نہ بنو۔تم نے خدا تعالیٰ کے نبی کو پایا ہے۔تم ہر نعمت کی قدر کرد - سستی ترک کرد و غفلت چھوڑ دو- نفاق سے اپنے آپ کو پاک کر لو۔محبت اور اخلاص پیدا کرو کہ تم خدا کے پیاروں میں لکھے جاؤ۔