خطبات محمود (جلد 11) — Page 498
خطبات محمود ۴۹۸ سال ۱۹۲۸ء نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک پانچ ہزار اور پچاس ہزار کی رقوم ان کی جیبوں میں نہ جا پڑیں ان کی عزت قائم نہیں ہو سکتی تو وہ اس کے لئے پورا زور لگا ئیں۔ہم کب چاہتے ہیں کہ کسی کی ذلت ہو اور وہ ذلت کو دور کرنے کی کوشش نہ کرے۔وہ مقدمہ کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔آگے اللہ تعالی کی مشیت فیصلہ کرے گی کہ انہیں پچپن ہزار ملتا ہے یا نہیں ملتا۔اس معاملہ سے میں تعلق نہیں رکھتا اس کا تعلق ایڈیٹر سے ہے جنہوں نے مضمون شائع کیا وہ اس کے ذمہ دار ہیں۔مگر ذاتیات کے متعلق نہ لکھنے کا فیصلہ میری طرف سے ہے ان کی طرف سے نہیں۔اور وہ ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار نہیں جیسا کہ اخبار سے پتہ لگتا ہے وہ کسی نہ کسی طرح اس معاملہ کا ذکر لے آتے ہیں۔لیکن میں کہتا ہوں جب دشمن نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں تو تم بھی اسے چھوڑ دو کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے۔وَإِنْ جَنَحُوا السّلْمِ فَا جَنَحَ لَهَا۔اس کے بعد ایک اور بات میں کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انگلستان کے تبلیغی مشن کا کام بہت ترقی کر گیا ہے۔اگر چہ مشن میں کام کرنے والوں نے کام کی زیادتی کو پیش نہیں کیا سوائے خان صاحب منشی فرزند علی صاحب کے جو اب وہاں گئے ہیں۔انہوں نے لکھا ہے مبلغین کے علاوہ دو سرے دوست جو ولایت گئے وہ لکھتے اور واپنی پر کہتے رہے ہیں کہ اب کام دو آدمیوں کی طاقت سے بہت بڑھ گیا ہے۔ماہوار رسالہ کا تیار کرنا طلباء کا خیال رکھنا، مسجد کی نگرانی اور آبادی کا کام کرنا ، رپورٹیں لکھنا، مشن کا حساب کتاب رکھنا اس قسم کے بہت سے کام ہیں۔یہاں سے جب انگریزی ریویو شائع ہوتا تھا تو اس کے لئے دو ایڈیٹر مقرر تھے ان کے علاوہ اور عملہ بھی تھا مگر وہاں صرف دو آدمی ہیں جنہیں رسالہ کا سارا کام کرنے کے علاوہ اور بھی بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں۔لوگوں میں اسلام کی تبلیغ کرنا نو مسلموں کی تعلیم و تربیت کرنا مختلف سوسائٹیوں میں لیکچر دینا۔غرض کام بہت وسیع ہو چکا ہے اور دو آدمیوں کی ہمت سے زیادہ ہے اس لئے میں نے تجویز کی ہے کہ وہاں ایک اور مشنری رکھا جائے۔مگر بجٹ میں اس کے اخراجات کے لئے گنجائش نہیں ہے اس لئے یہ تجویز کی گئی ہے کہ اس کے اخراجات ہماری جماعت کی عورتیں مہیا کریں۔اس مبلغ کا سالانہ خرچ چار ہزار روپے کے قریب ہو گا۔اور خیال یہ ہے کہ ایک انگریز نو مسلم کی تربیت کر کے اس سے یہ کام لیا جائے۔وہاں کے لوگ اس کی باتیں زیادہ توجہ سے سن سکیں گے۔اور وہ بھی ان کے مزاج اچھی طرح سمجھتا ہو گا اس کے لئے عورتوں میں تحریک کی گئی ہے۔اس موقع پر پچاس ساٹھ کے قریب عورتیں ہوں گی ان سے