خطبات محمود (جلد 11) — Page 499
خطبات محمود ۴۹۹ سال ۱۹۲۸ء تین سو کی رقم وصول ہو گئی ہے اور پانچ سو کا وعدہ ہوا ہے۔کل (بروز ہفتہ) پھر ارادہ ہے کہ عورتوں میں یہ تحریک کی جائے امید ہے ہزار بارہ سو روپیہ یہاں کی مستورات کے چندہ سے ہو جائے گا۔باہر کی عورتوں سے بھی امید ہے کہ وہ اس تحریک میں بخوشی حصہ لیں گی۔چونکہ لنڈن مشن کا بجٹ بہت تھوڑا ہوتا تھا اس لئے اس کے ذمہ اخراجات کا بقایا ہو تا رہا ہے جو ۵ ہزار کے قریب ہے۔لندن کی مسجد چونکہ احمدی عورتوں کے چندہ سے بنی ہے اس لئے انہی کی ہے۔مردوں کا روپیہ مکان خرید نے اور تجارت پر لگایا گیا اور کچھ روپیہ یہاں جماعت کے لئے جائداد خریدنے پر صرف کیا گیا تھا۔اس طرح چونکہ مردوں کا روپیہ خرچ ہوا تھا اس لئے لندن کی مسجد عورتوں کے اس روپیہ سے بنی ہے جو مسجد کے لئے جمع کیا گیا تھا۔چونکہ وہ مسجد عورتوں ہی کی ہے اس لئے اس مشن کا سارا خرچ عورتوں کو ہی برداشت کرنا چاہئے۔اس سال نو ہزار کی تحریک عورتوں میں کی جاتی ہے۔یہ تحریک اخبار میں بھی چھپ جائے گی۔اس طرح باہر کی ہے اس لئے اس مشن کا سارا خروج خواتین اس میں حصہ لے سکیں گی۔یہاں کے دوست بھی اپنے اپنے گھروں میں اسے پہنچا دیں۔اگر اب کے تحریک سے رقم بڑھ جائے گی جیسا کہ خدا کے فضل سے ہماری تحریکات کے متعلق ہوتا ہے تو اگلی دفعہ اس رقم کو منہا کر کے بقیہ کے لئے تحریک کی جائے گی مثلاً اگر اس سال تحریک سے ایک ہزار زائد رقم جمع ہو گئی تو اگلے سال چار ہزار کی بجائے ۳ ہزار کے لئے تحریک کی جائے گی۔میں سمجھتا ہوں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت کی عورتوں کے لئے ؟ ہزار کی رقم نہایت قلیل ہے اور وہ بہت جلدی اسے پورا کر دیں گی۔اس کے متعلق میں یہ بھی ہدایت کرتا ہوں کہ مرد اس تحریک میں حصہ نہ لیں۔کئی مرد یہ سمجھ کر کہ عورت کے پاس کچھ نہیں اپنے پاس سے روپیہ دے دیتے ہیں مگر اس طرح عورتوں میں وہ روح نہیں پیدا ہو سکتی جو خدا کے لئے اپنا مال دینے سے پیدا ہوتی ہے۔اس لئے مردوں کو چاہئے کہ عورتوں کو اپنے پاس سے دینے دیں خواہ پیسہ دو پیسہ ہی دیں۔اگر کسی عورت کے پاس اک پیسہ بھی نہیں تو وہ اپنے خرچ سے بچا کر دے۔مگر اپنے پاس سے دے مرد سے لے کر نہ دے۔زمیندار عورتیں عموماً شکایت کیا کرتی ہیں کہ مرد انہیں کچھ نہیں دیتے وہ کس طرح چندہ دیں۔میں کہتا ہوں اپنے پاس سے دو مرد کی جیب سے لے کر نہ دو۔چنکی چنکی آئے ہی سے بچا کر جو کچھ جمع ہو وہ دو مگر اپنے پاس سے دو۔اور اگر کسی کے پاس کچھ بھی نہیں مگر وہ خدا کی راہ میں دینے کی خواہش رکھتی ہے تو وہ بھی ثواب کی مستحق ہوگی کیونکہ اللہ تعالٰی اخلاص دیکھتا