خطبات محمود (جلد 11) — Page 416
خطبات محمود سال ۱۹۴۸ء جتنی ضرورت ہو وہ حس اتنی ہی طاقت مہیا کر دیتی ہے۔پس جب اعلیٰ مقصد ہو گا تو مسلمانوں کو اس کے مطابق طاقت اور ہمت بھی حاصل ہو جائے گی۔جب تک ادنی مقصد سامنے رہے گا کہ خود کھانا پینا اور بیوی بچوں کو کھلانا اور بس اس وقت تک قومی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنی زندگی کا اعلیٰ مقصد قرار دیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بنتا ہے۔یعنی جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات سب کے لئے جاری ہوتی ہیں اسی طرح ہم بھی کریں اور ساری دنیا کو فائدہ پہنچائیں۔اور ساری دنیا کے لئے مفید ثابت ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کی صفات کو جذب کر سکیں اور پھر دنیا کو فائدہ پہنچا سکیں تا ہماری زندگی ایسی نہ ہو جیسی جانوروں کی ہوتی ہے کہ ہمارا دنیا میں آنا نہ آنا برابر ہو بلکہ ہم ایسے مفید نقش چھوڑنے والے ہوں کہ لوگوں کی نیک خواہشیں اور امیدیں ہمارے متعلق ہوں۔الفاتحہ : الفضل ۲۴ / جولائی ۱۹۲۸ء) سے ترندی الواب التفسير باب ما جاء فى الذى نفيسر القرآن برأيه۔۔۔الا سے الفاتحه : ۵ که البقرة : ۱۸۷