خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 411

خطبات محمود il سال ۱۹۲۸ء مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا گیا۔اس سے قبل مجھے باہر جا کر کبھی تقریر کرنے کا موقع نہ ملا تھا اور شاید قادیان میں بھی کبھی ملا تھا یا نہیں یہ مجھے یاد نہیں۔اس وقت اچانک مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا گیا اس لئے بھی کوئی مضمون میرے ذہن میں نہ تھا۔میں نے سورۃ فاتحہ پڑھی اور اتفاق ایسا ہوا کہ انہی دنوں میں نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ سورۃ فاتحہ میں سے نئے سے نئے مضامین نکلتے رہتے ہیں۔اس کا ذکر میں نے دوستوں سے کیا ہوا تھا۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ میں نے یہ کہا ہوا ہے اور سورۃ فاتحہ پڑھی ہے اگر اس وقت میرے ذہن میں سورۃ فاتحہ کا کوئی نیا مضمون نہ آیا تو دوست کہیں گے خواب تو پورا نہ ہوا۔حالانکہ یہ ضروری نہ تھا کہ جب بھی سورۃ فاتحہ پڑھی جائے جب ہی کوئی نیا مضمون سوجھے کیونکہ کسی چیز کا موجود ہونا اور بات ہے اور اس کامل جانا اور بات ہے۔مگر اس وقت مجھے تردد ضرور پیدا ہوا۔اور میں نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا اور خدا تعالیٰ نے ایسا مضمون سمجھایا کہ اب بھی عمر کے لحاظ سے حیران ہوتا ہوں۔اور ایسا نکتہ تھا جو کسی مفسر نے اس سے قبل نہیں لکھا تھا اور ایسا سچا تھا کہ میں حیران تھا کیوں پہلے مفسرین کے ذہن میں نہ آیا۔وہ یہ بات تھی کہ سورۃ فاتحہ کے آخر میں یہ دعا سکھائی گئی ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔کہ الہی ہم مغضوب علیم اور ضالین نہ بن جائیں۔رسول کریم ﷺ نے بھی فرمایا ہے اور قرآن سے بھی پتہ لگتا ہے کہ عیسائیوں کو ضال کہا گیا ہے اور یہودیوں کو مغضوب کئی حدیثیں جو تواتر کا درجہ رکھتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ضال عیسائی ہیں اور مغضوب یہودی۔ایک طرف تو یہ بات ہے اور دوسری طرف یہ ہے کہ مکہ میں جہاں سورۃ فاتحہ اتری نہ عیسائی تھے نہ یہودی عیسائی تو شاذ و نادر غلاموں کی صورت میں یا ایک دو اور پائے جاتے تھے جیسے ورقہ بن نوقل حضرت نے بچی کے رشتہ دار تھے مگر ان کی سیاسی حیثیت نہ تھی۔اور یہودی تو بالکل نہ تھے۔مگر دعا یہ سکھائی جاتی ہے کہ الہی ہم ضال اور مغضوب نہ بن جائیں حالانکہ اس وقت جو لوگ اسلام کی مخالفت کر رہے تھے اور مسلمانوں کو گھروں سے بھی نہ نکلنے دیتے تھے وہ مشرک تھے۔اس وقت مکہ میں مسلمانوں کے یہودی یا عیسائی ہونے کا کوئی خطرہ نہ تھا۔اگر خطرہ تھا تو یہ تھا کہ مسلمان مشرک نہ ہو جائیں جیسا کہ بعض کمزور لوگ ہو گئے۔رسول کریم ﷺ کا کاتب وحی مرتد ہو گیا تھا۔پس ایسی مثالیں تو ملتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو ماننے والے بوجہ کمزوری ایمان اور تکالیف برداشت نہ کر سکنے کے مشرک ہو گئے گو بہت قلیل تعداد میں