خطبات محمود (جلد 11) — Page 407
خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ وقت خوش ہو سکتا ہے جب خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا اسے رستہ معلوم ہو جائے۔پس قرآن نہ صرف غیروں کے سامنے خوش ہونے کے سامان اپنے ماننے والوں کے لئے مہیا کرتا ہے بلکہ وہ رستہ بھی بتاتا ہے جس پر چل کر انسان خدا تعالٰی تک پہنچ سکتا ہے۔لیکن جو قرآن کو نہ دیکھے نہ پڑھے وہ نہ برہان سے واقف ہو سکتا ہے اور نہ نور مبین سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ تعلیم یافتہ تھے مگر کہتے تھے قرآن کا سمجھنا مشکل ہے اس لئے نہیں پڑھتے۔مگر معلوم ہونا چاہئے خدا تعالیٰ نے قرآن کو نہایت آسان بنایا ہے۔قرآن دراصل کئی جلوے رکھتا ہے ایک وہ جلوہ ہے جو عام لوگوں کے لئے ہے اس سے بڑھ کر ان کے لئے جو عالم ہوں پھر ان کے لئے جو عارف ہوں پھر ان کے لئے جو سالک ہوں اسی طرح ترقی ہوتی جاتی ہے۔ہے شک قرآن کے بڑے بڑے مطالب اور نکات تقویٰ اور معرفت سے وابستہ ہیں۔مگر قرآن کا ایسا جلوہ بھی ہے جو ہر انسان کے لئے ہے اور جوں جوں انسان غور کرتا ہے اس کے لئے زیادہ سے زیادہ جلوہ نمائی ہوتی جاتی ہے۔پس یہ صحیح نہیں ہے کہ قرآن سمجھ میں نہیں آتا اگر۔لوگوں کے سمجھنے کے لئے قرآن نہ ہوتا تو اس میں یا يُّهَا النَّاسُ نہ آتا۔بلكہ يَاتِهَا الْعُلَماء يا آيَاتِهَا الْفُقَهَاءِ آتا۔یہی آیت دیکھ لو۔اس میں آتا ہے بيَاتِهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمُ بُرُهَانُ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنزَلْنَا اِلَيْكُمُ نُورًا مُّبِينًا اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالٰی نے اس میں غیر مسلموں کو بھی مخاطب کیا ہے۔اب اگر قرآن کو نہ ماننے والے بھی اس کی باتوں کو سمجھ سکتے ہیں تو پھر ماننے والے کیوں نہیں سمجھ سکتے۔مسلمانوں کی ساری تباہی کی وجہ یہی ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم قرآن نہیں سمجھ سکتے حالانکہ عرب کے لوگوں نے جس وقت قرآن کو سمجھا اس وقت کی نسبت اب مسلمانوں میں تعلیم بہت زیادہ ہے۔اور تعلیم کی ترقی کر جانے کی وجہ سے آج کل کے جاہل بھی اس زمانہ کے جاہلوں کی نسبت زیادہ واقفیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ دوسروں سے سن سنا کر بہت سی باتیں جو اب نکلی ہیں معلوم کر لیتے ہیں۔جیسے طاعون کا کیڑا ہے۔لاکھوں انسان ایسے ہیں جو ایک لفظ بھی نہیں پڑھے ہوئے مگر انہیں معلوم ہے کہ طاعون کا کیڑا ہوتا ہے۔اسی طرح زمین کا گول ہونا انہیں معلوم ہے۔پرانے زمانے میں یہ باتیں بڑے بڑے عالموں کو بھی معلوم نہ تھیں۔پس اگر عرب کے جاہل قرآن کو سمجھ سکتے تھے تو آج کل کے لوگ کیوں نہیں سمجھ سکتے۔ہر مسلمان کو چاہئے کہ قرآن کریم کو پڑھے۔اگر عربی نہ جانتا ہو تو اردو ترجمہ اور تفسیر ساتھ پڑھے۔عربی جاننے والوں پر قرآن کے بڑے بڑے مطالب کھلتے ہیں۔مگر یہ مشہور بات ہے